سندر لال کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ ، محبوب نگر میں گول میز کانفرنس
محبوب نگر۔ /17 ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سندر لال کمیشن کی رپورٹ کو فوری منظر عام پر لایا جائے ۔ ایم آر جے اے سی کے زیر اہتمام گول میزاجلاس سے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔ مستقر محبوب نگر کے ویزن فنکشن ہال میں 17 ستمبر کو ایک گول میز اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ حنیف احمد اسٹیٹ کنوینر نے صدارت کی۔ مقررین نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 13 تا 17 ستمبر 1948 تک جواہر لال نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل کی قیادت میں ہندوستانی حکومت کی فوج نے ریاست حیدرآباد کو ضم کرنے کے نام پر عوام پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندر لال کمیشن رپورٹ میں 50 ہزار تا 2 لاکھ اموات کا اندازہ لگایا گیا۔ تلنگانہ کے کسانوں کی مسلح جدوجہد جس کا آغاز دودی کمرایا کے لافانی سے ہوا جاگیرداروں کے استحصالی جبر کے خلاف 3000 دیہاتوں میں ہوا۔ لاکھوں ایکر اراضی حاصل کی گئی۔ اس عوامی جدوجہد میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے شانہ بہ شانہ حصہ لیا۔ تلنگانہ کے کسانوں کی مسلح جدوجہد لازوال تحریک بن کر ابھری۔ صیاب اللہ خان اور مخدوم محی الدین جیسے داشنوروں نے حصہ لیا۔ وشواناتھ رامچندرریڈی چنما پرتاپ ریڈی جیسے وہ لوگ تھے جو عثمان علی خان کے لوگوں کے خلاف مسلسل ظلم کرتے رہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) 17 ستمبر کو یوم آزادی کے طور پر منانے کی سازش کررہی ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی جدوجہد کا نام دیا جاسکے جو غداری سے کم نہیں۔ جبکہ 17 ستمبر سے بی جے پی کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ بی جے پی ووٹوں کی سیاست پر منحصر ہے۔ قائدین نے تلنگانہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس خونی سانحہ کی تلخ یادوں کو نہ دہرائیں اور مستقبل میں یکجہتی اور رواداری کو پروان چڑھانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس موقع پر ٹی ایف ٹی یو کے ریاستی جنرل سکریٹری خلیل، ریاستی المیوا کے صدر فاروق حسین ، راگھوا چاری، محمد عبدالرحیم، نورالحسن، وجئے کمار، سلیم ایڈوکیٹ، خواجہ نظام الدین، بچی ریڈی، تھمنا وینکٹ ریڈی، وامن کمار، رحمن، سلیم ایمان کیٹی، بجلی کوئر ، اسمعیل، مولانا ناصر، جلال پاشاہ، سید محمد و دیگر بڑی تعداد میں شریک تھے۔