تلسنکرات ، آبائی مقامات جانے والوں کو مشکلات

   

ریگولر ٹرینوں کے بند رہنے سے خصوصی ٹرین میں بکنگ و ویٹنگ فل
حیدرآباد۔ تلسنکرانت کے دوران اپنے آبائی مقامات جانے کے خواہشمندوں کو ٹرینوں کی کم تعداد کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے ۔ تلسنکرانت کی تعطیلات کے دوران محکمہ ریلوے کی جانب سے کئی شہروں سے خصوصی ٹرینیں چلائی جاتی تھیں لیکن اس سال کورونا وائرس تحدیدات کے سبب ملک بھر میں چلائی جانے والی ٹرین خدمات ابھی تک بحال نہیںکی جاسکی ہیں لیکن تلسنکرانت کے دوران اپنے آبائی مقامات کو جانے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے جس کی وجہ سے ٹرین بکنگ کے دوران کسی لوگوں کو ویٹنگ لسٹ میں ہی ٹکٹ حاصل ہورہے ہیں جو ان کی سفر کی توثیق نہیں کرتے۔ شہر حیدرآباد میں موجود سکندرآباد‘ حیدرآباد اور کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن سے فی الحال صرف 80ریگولر ایکسپریس ٹرین اور 120 پیاسنجر ٹرین نہیں چلائی جا رہی ہیں بلکہ ان کی جگہ صرف خصوصی ٹرینیں چلائی جانے لگی ہیں اور ریلوے حکام نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ اختتام جنوری تک اب کوئی بکنگ باقی نہیں ہے بلکہ ویٹنگ لسٹ بھی مکمل ہوچکی ہے جس کی وجہ صورتحال ابترہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جو خصوصی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں ان خصوصی ٹرینوں میں بھی بکنگ مکمل ہونے کے بعد یہ کہا جا رہاہے کہ محکمہ ریلوے کی جانب سے مزید خصوصی ٹرینوں کے چلانے کے سلسلہ میں غور کیا جائے گا لیکن اعلی عہدیداروں نے واضح کردیا ہے کہ ان حالات میں مزید کسی خصوصی ٹرین کے آغاز کے سلسلہ میں غور کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تلگو ریاستوں کے علاوہ مہاراشٹرا‘ گجرات اور ملک کی شمالی ریاستوں میں بھی تلسنکرانت کے دوران اپنے آبائی علاقوں میں تعطیلات گذارنے کا رجحان ہے اور ان تعطیلات کے دوران اکثر خاندان مختصر مدتی سفر کرتے ہوئے سیاحتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں لیکن ہندستان میں ٹرین خدمات کورونا وائرس کے سبب محدود کئے جانے کے بعد شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں رہنے والوں کو پہلی مرتبہ تلسنکرانت کا سامنا ہے اور ان حالات میں ٹرین کے ٹکٹ دستیاب نہ ہونے سے شہریوں میں مایوسی پائی جانے لگی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس مرتبہ اگر ٹرین کے ٹکٹ نہیں ملتے ہیں تو ایسی صورت میں تلسنکرانت کی تعطیلات گذارنے کے لئے اپنے آبائی مقامات کو جانے والوں کی جانب سے اپنی خانگی گاڑیوں کا استعمال زیادہ کیا جائے گا۔