تلسنکرانت تعطیلات کے ساتھ ہی بیشتر شاہراہوں پر ٹریفک جام

   

آر ٹی سی بسوں اور موٹر کاروں کی طویل قطاریں، متبادل راستوں کی کشادگی پر توجہ
حیدرآباد۔11جنوری(سیاست نیوز) ریاست میں تلسنکرانت کی تعطیلات کے آغاز کے ساتھ ہی ریاست کی بیشتر شاہراہوں پر ٹریفک مسلسل جام رہنے لگی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف شاہراہوں پر نہ صرف آرٹی سی بسوں بلکہ خانگی موٹر کاروں کی بھی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اپنے آبائی مقامات کو تعطیلات کے لئے روانہ ہونے والوں کے لئے فراہم کی جانب سے خصوصی بس سہولت سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ اور خصوصی بسوں کی آمد ورفت کے نتیجہ میں ریاست کے سرحدی علاقوں کے علاوہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہونے کے نتیجہ میں مسافرین کو کئی گھنٹوں تک ٹول بوتھ پر انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر سے باہر جانے والے بیشتر تمام راستوں پر ٹریفک جام کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ تلسنکرانت کی تعطیلات کے لئے روانہ ہونے والوں کی بڑی تعداد کی بذریعہ سڑک روانگی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہونے لگی ہے ۔شہر حیدرآباد سے آندھراپردیش میں داخل ہونے والے راستہ پر شدید ٹریفک جام ریکارڈ کی گئی ہے اور ہفتہ کی صبح 6بجے تااتوار کی صبح 6بجے دوران پتنگی ٹول پلازہ سے 70000 ہزار گاڑیاں گذرچکی ہیں اور اتوار کو دن بھر اس ٹول پلازہ پر ٹریفک میں زبردست خلل دیکھا گیا ہے جو جہاں ٹول پلازہ سے گذرنے کے لئے گاڑیوں کو 3تا4 گھنٹے کا انتظار کرنا پڑرہاتھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو تعطیلات کے اعلان کے علاوہ گذشتہ یوم دوسرے ہفتہ اور آج اتوار کی تعطیل کے بعد دو یوم پیر اور منگل کو بیشتر سرکاری ملازمین نے رخصت حاصل کی ہوئی ہے کیونکہ چہارشنبہ اور جمعرات کو عام تعطیل ہے اس طرح طویل تعطیلات کے پیش نظر محکمہ تعلیم کے علاوہ دیگر محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین بھی اپنے آبائی مقامات کے لئے روانہ ہونے لگے ہیں۔نلگنڈہ ‘ بھونگیر‘ کرنول ‘ کے علاوہ ریاست کی دیگر سرحدوں پر بھی بھاری ٹریفک جام کے نتیجہ میں ہائی ویز کے قریب موجود مواضعات سے تعلق رکھنے والے پولیس عہدیداروں نے ان ہائی ویز پر جہاں ٹریفک جام کی شکایات موصول ہورہی ہیں ٹریفک میں پیدا ہونے والے خلل کو دور کرنے کے لئے متبادل راستوں کی کشادی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے ہیں لیکن ا س کے باوجود بھی شاہراہوں سے لاززی طور پر جن گاڑیوں کو گذرنا ہوتا ہے ان کی تعداد میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے سبب ٹریفک کو فوری طور پر بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔3