راجستھان میں کانٹے کی ٹکر، سٹہ بازار کے رجحانات سے سیاسی مبصرین الجھن میں، 3 ڈسمبر کو حقائق منظر عام پر آئیں گے
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) ملک کی 5 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی رائے شماری 3 ڈسمبر کو مقرر ہے اور 4 ریاستیں ایسی ہیں جن کے نتائج پر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں نئی سیاسی صف بندیوں کا انحصار رہے گا۔ چھتیس گڑھ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور میزورم میں رائے دہی کا عمل مکمل ہوچکا ہے جبکہ تلنگانہ میں کل 30 نومبر کو رائے دہی ہوگی۔ بی جے پی اور کانگریس کے لئے 4 ریاستوں کے نتائج غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں گے کیونکہ چار ریاستوں میں چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کا اقتدار ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور تلنگانہ میں بی آر ایس کی حکومت ہے۔ رائے شماری سے قبل جو اوپینین پول منظر عام پر آئے اور سٹہ بازار کی سرگرمیاں جس طرح دیکھی جارہی ہیں اس کے تحت کانگریس کو مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں سبقت کی پیش قیاسی کی گئی ہے جبکہ راجستھان میں اشوک گہلوٹ حکومت بحران میں دکھائی دے رہی ہے اور وہاں اقتدار کیلئے کانٹے کی ٹکر ہے۔ سٹہ بازار کے رجحانات کے مطابق کانگریس پارٹی چھتیس گڑھ میں اپنی حکومت بچالے گی اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی سے اقتدار چھیننے میں کامیاب رہے گی۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کا 10 سالہ اقتدار خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے اور سٹہ میں زیادہ بٹنگ کانگریس کے حق میں ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی مبصرین بھی اسی رجحان کو اپنی پیش قیاسی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ تینوں ریاستوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی کی لہر نے نتائج کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔ یوں تو کانگریس پارٹی چار ریاستوں میں کامیابی کا دعویٰ کررہی ہے لیکن بی جے پی راجستھان پر دوبارہ قبضہ جمانے کے بارے میں پُرامید ہے۔ تلنگانہ میں ابتداء میں بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سہ رخی مقابلہ کا امکان تھا لیکن انتخابی مہم کے اختتام تک بی جے پی دوڑ سے نکل چکی ہے اور اصل مقابلہ بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان ہے۔ سیاسی مبصرین پر یقین کریں یا پھر سٹہ بازار کے رجحان پر دونوں میں کوئی زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی جے پی دونوں کے حق میں بٹنگ زیادہ دیکھی جارہی ہے جبکہ راجستھان، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں کانگریس کے حق میں زیادہ رقومات کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ اب جبکہ رائے شماری کیلئے مزید چند دن باقی ہیں امید کی جارہی ہے کہ سٹہ بازار مزید تیز ہوگا اور کانگریس کے حق میں مزید رقومات کی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ تین ریاستوں چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے بارے میں سٹہ بازار کا رجحان رائے دہی کی تکمیل کے بعد منظر عام پر آیا جبکہ تلنگانہ کے بارے میں رائے دہی سے قبل ہی کانگریس کے حق میں اندازے قائم کئے جارہے ہیں۔ کیا تلنگانہ میں مخالف حکومت لہر کانگریس کو اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کرے گی؟ اس کا فیصلہ 3 ڈسمبر کو ہوجائے گا۔ اگر سٹہ بازار کے رجحانات حقیقت میں تبدیل ہوتے ہیں تو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ بہتر ہوسکتا ہے۔