آبی تنا زعہ کے حل کیلئے تلنگانہ مذاکرات کا حامی،سیاسی پارٹیوں سے تعاون کی خواہش ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔9 ۔ جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آندھراپردیش ہم منصب چندرا بابو نائیڈو سے اپیل کی کہ وہ متحدہ آندھراپردیش میں دریائے کرشنا پر تعمیر کیلئے منظور کردہ تلنگانہ آبپاشی پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا بند کردیں۔ چیف منسٹر نے تلگو ریاستوں کے آبی تنازعہ کے خوشگوار حل کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں کو حکومت سے تعاون کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ پراجکٹ کے اجازت ناموں کو روکنے اور مرکزی حکومت سے فنڈس کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں تلنگانہ کے خزانہ پر بوجھ عائد ہوا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی آج مہیشورم میں SUZEN میڈی کیر فلوڈ پلانٹ کے افتتاح کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت پڑوسی ریاستوں سے کشیدہ صورتحال کے حق میں نہیں ہے۔ ہماری اولین ترجیح آبی تنازعات کی خوشگوار یکسوئی ہے تاکہ اسٹیک ہولڈرس میں تنازعہ میں شدت نہ ہو۔ کانگریس کو آبی تنازعات کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت عوام اور کسانوں کے مفادات کے تحفظات کو اولین ترجیح دیتی ہے اور آبی تنازعات کی دوستانہ ماحول میں خوشگوار یکسوئی کیلئے تیار ہے۔ تلنگانہ کیلئے بندرگاہوں سے رابطہ کی مساعی کا حوالہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر آندھراپردیش پر زور دیا کہ اس میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستیں باہمی تعاون سے مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں سے مذاکرات جاری رہیں گے اور پڑوسی ریاستوں آندھرا پردیش ، کرناٹک ، مہاراشٹرا اور ٹاملناڈو سے تعاون کی امید ہے۔ تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن ڈاکیومنٹ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت 2034 تک ریاست کی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کور اربن علاقہ معیشت کی ترقی میں اہم رول ادا کریں گے۔ حیدرآباد کئی شعبہ جات میں دنیا کے بڑے شہروں سے مسابقت کر رہا ہے۔ تلنگانہ ترقی کے معاملہ میں جرمنی ، جاپان، ساؤتھ کوریا اور نیویارک سے مسابقت کر رہی ہے۔ اس میں حکومت صنعت کاروں اور خصوصا نوجوان صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کا 40 فیصد بلک ڈرگس تلنگانہ میں تیار ہوتا ہے۔ حکومت فارما شعبہ پر توجہ مرکوز کرچکی ہے اور ملک میں یہ شعبہ نمایاں مقام حاصل کریگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں کی مساعی کے نتیجہ میں حیدرآباد عالمی شہروں سے مسابقت کے موقف میں ہے۔ چیف منسٹر نے جرمن ٹکنالوجی سے آئی وی فلوڈس تیار کرنے والی کمپنی کے قیام کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ خانگی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔ تقریب میں وزیر آئی ٹی ڈی سریدھر بابو ، اسپیکر اسمبلی پرساد کمار ، ارکان مقننہ مہیندر ریڈی اور مال ریڈی رنگا ریڈی موجود تھے۔1
