حیدرآباد،30اکتوبر(یواین آئی) حیدرآباد اور تلنگانہ کے دوسرے علاقوں کی سڑکوں سے آج بھی تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں سڑکوں سے غائب رہیں۔ ملازمین نے ہڑتال میں مزید شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کی سڑکوں پر بعض بسیں دکھائی دیں۔ بسوں کا روزانہ استعمال کرنے والے مسافرین کو اس ہڑتال کی وجہ سے اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ حیدرآباد کے دو بڑے بس اسٹیشنس مہاتماگاندھی بس اسٹیشن اور جوبلی بس اسٹیشن تقریباً سنسان دکھائی دے رہے ہیں۔ زائد از 10400 آرٹی سی بسیں ریاست بھر کے ڈپوز میں ہی رکی رہیں کیونکہ تقریباً48000ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ محکمہ آرٹی سی کے حکام’ عارضی ڈرائیوروں اور دوسرے ملازمین کی مدد سے چند بسیں چلارہے ہیں۔حیدرآباد اور بڑے شہروں بشمول نظام آباد’کریم نگر اور ورنگل میں مسافرین کو مزید مسائل کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی آر ٹی سی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے حکومت کے طرز عمل پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ان جماعتوں نے ہڑتال کی بھرپور حمایت کی اور وزیراعلی چندرشیکھرراو کی کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیا ہے جنہوں نے ہڑتالی ملازمین کی خدمات سے دوبارہ استفادہ اور محکمہ آرٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کے امکانات مسترد کردیئے ہیں۔