تلنگانہ آر ٹی سی کو چار ماہ کے دوران 900 کروڑ روپئے کا نقصان

   

Ferty9 Clinic

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے یومیہ 2 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ ، کرایوں میں اضافہ پر غور
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ آر ٹی سی کو گذشتہ 4 ماہ کے دوران 900 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ جس کے بعد پہلے سے خسارے میں چلنے والی آر ٹی سی مزید معاشی بحران کا شکار ہوگئی ہے ۔ دو سال قبل حکومت نے ہر ایک کلو میٹر کے لیے ٹکٹ پر 20 پیسوں کا اضافہ کیا تھا جس سے تلنگانہ آر ٹی سی کی آمدنی میں اضافہ ہوا تھا ۔ یومیہ آر ٹی سی کو 14 کروڑ روپئے کی آمدنی ہورہی تھی ۔ مختصر عرصہ میں آر ٹی سی خسارے پر قابو پارہی تھی ۔ ٹھیک اسی وقت کورونا وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور بسیں ڈپوز تک محدود ہوگئیں تھیں ساتھ ہی دیڑھ سال سے کورونا بحران جاری جس سے دوبارہ آر ٹی سی کو نقصان ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے بھی آر ٹی سی پر مزید مالی بوجھ عائد ہوا ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال اپریل سے جولائی تک چار ماہ کے دوران آر ٹی سی کو 900 کروڑ روپئے کا نقصان پہونچا ہے ۔ ماہانہ اوسطاً تلنگانہ آر ٹی سی کو 225 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ ماضی میں سال 2015-16 کے دوران آر ٹی سی کو 1,150 کروڑ اور سال 2019-20 میں 1,002 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا تھا ۔ اس مرتبہ اس سے دو گنا نقصان سے آر ٹی سی گذر رہی ہے ۔ اگر صورتحال اس طرح برقرار رہی تو آر ٹی سی کو برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا ۔ آر ٹی سی کی جانب سے پھر ایک مرتبہ کرایوں میں اضافہ کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ایک سال کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے آر ٹی سی پر روزانہ 2 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ مسلسل ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے آر ٹی سی اپنے خسارے سے ابھر نہیں پا رہی ہے ۔ تین چار ماہ قبل ایک کیلومیٹر پر آر ٹی سی کے مصارف 14 روپئے تھے جو اب بڑھ کر 18 روپئے ہوگئے ہیں ۔ آر ٹی سی کی جانب سے نقصانات پر قابو پانے کے لیے فضول خرچی کو کم کرنے ڈیزل کے بجائے متبادل راستوں پر توجہ دی جارہی ہے ۔ بائیو ڈیزل کے استعمال پر توجہ دی جارہی ہے ۔ بائیو ڈیزل کی فراہمی میں مکمل تعاون نہ کرنے پر جس ادارہ سے آر ٹی سی معاہدہ کیا تھا اس سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ جس سے ڈیزل میں جو بچت ہورہی تھی وہ بھی ختم ہوگئی ۔۔N