تلنگانہ اردو اکیڈیمی میں فنڈز کے بیجا استعمال کی تحقیقات کا امکان

   


اسکیمات کافنڈ دیگر اغراض کیلئے منتقل کرنے کا انکشاف، کیلنڈر اور ڈائریز کی اشاعت پر بھاری خرچ، آر ٹی آئی میں انکشافات

حیدرآباد۔ آندھرا پردیش میں اردو اکیڈیمی کی بے قاعدگیوں سے متعلق تحقیقات کی طرح تلنگانہ اردو اکیڈیمی میں سرکاری فنڈز کے بیجا استعمال کی تحقیقات کا امکان ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فنڈز کے بیجا استعمال اور حکومت کی اسکیمات کو فراموش کرنے کے علاوہ اسکیمات کے فنڈز کو غیر ضروری اُمور کیلئے منتقل کرنے جیسے معاملات منظرعام پر آئے ہیں۔ حکومت کو مختلف گوشوں سے اس سلسلہ میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اقلیتوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ حکومت اقلیتی بہبود کیلئے درکار بجٹ جاری نہیں کرتی لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکومت کا جاری کردہ بجٹ اسکیمات کے بجائے غیر ضروری امور پر خرچ کرتے ہوئے اقلیتی ادارے بالخصوص اردو اکیڈیمی بددیانتداری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ حال ہی میں آر ٹی آئی جہد کار کی جانب سے حاصل کردہ تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے فروغ اردو کے بجائے فنکشن ہالس کی تعمیر اور دیگر غیرضروری اُمور پر بھاری رقومات خرچ کی ہے۔ آر ٹی آئی سے حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق گذشتہ 4 برسوں میں تلنگانہ اردو اکیڈیمی کو 17.5 کروڑ روپئے تحفظ و فروغ اردو زبان کیلئے حاصل ہوئے تھے جس میں سے 16.8 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ آر ٹی آئی کی درخواست میں اکیڈیمی کی جانب سے دیئے گئے جواب کے مطابق اردو گھر اور شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 6.27 کروڑ روپئے حاصل ہوئے تھے جس میں سے 4.62 کروڑ خرچ کئے گئے۔ تلنگانہ اردو اکیڈیمی محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے جو اردو زبان کی ترقی و ترویج کے علاوہ اردو زبان و تہذیب کے تحفظ و فروغ جیسے اُمور کی انجام دہی کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ سماجی جہد کار محمد عبدالاکرم جنہوں نے آر ٹی آئی درخواست داخل کی تھی بتایا کہ شادی خانوں کی تعمیر کے علاوہ کیلنڈرس اور ڈائریز کی اشاعت پر بھاری رقومات خرچ کی گئی ہیں بجائے اس کے یہ رقم اردو زبان کے فروغ پر خرچ کی جاسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی صورتحال کے سبب مرکزی حکومت نے بجٹ کو کاغذ پر پرنٹ نہیں کیا ہے اور ڈیجیٹل بجٹ جاری کیا گیا لیکن تلنگانہ اردو اکیڈیمی قدیم طریقہ کار کو برقرار رکھتے ہوئے کیلنڈرس شائع کررہی ہے جس پر بھاری رقومات صرف ہوئی ہیں۔ اردو اکیڈیمی کی ذمہ داریوں میں تہذیبی سرگرمیوں کے لئے جن میں سمینار اور مشاعرے شامل ہیں اردو تنظیموں کو مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اردو کتابوں اور مینو اسکرپٹ کی اشاعت پر شعراء، ادیبوں اور ماہرین لسانیات کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ آر ٹی آئی جہد کار نے کہا کہ قدیم طریقہ کار کو اپنانے کے بجائے اردو اکیڈیمی کو چاہیئے تھا کہ وہ نوجوان نسل کو اردو زبان سے قریب کرنے کیلئے کوئی منفرد طریقہ کار اختیار کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اردو شاعروں اور ادیبوں کو امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں اکیڈیمی کو سینئرس اور جونیرس میں فرق کرنا چاہیئے۔ نوجوان نسل میں اردو تعلیم کو عام کرنے اور اردو زبان کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے سلسلہ میں شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ اسی دوران گذشتہ ایک سال میں اکیڈیمی کی جانب سے کئے گئے اخراجات پر حکومت نے نظر رکھی ہے اور اخراجات کی تفصیلات کے ساتھ رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا امکان ہے۔