تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام اردو شعراء ، ادبا و اہل قلم حضرات کے مونو گراف کی اشاعت

   

’ یادرفتگان ‘ کے عنوان سے منعقدہ مشاورتی اجلاس میں ماہرین کی تجاویز کو قطعیت
حیدرآباد :۔ کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی میں دانشور ، اساتذہ ، فلسفی ، ادیب ، شاعر ، صحافی ، اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ ان میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد ہوتے ہیں جن کی کاوشوں کو خراج پیش کرنا ہمارا فرض عین ہے ۔ اس خصوص میں آزادی کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں ’ تذکرہ معاصرین ‘ کے عنوان سے مونو گراف تیار کئے گئے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر / سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی نے اس خصوص میں بتایا کہ اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام دکن کی سرزمین سے وابستہ عہد عثمانی سے موجود دور تک کے دانشوران اور اردو زبان و ادب کے اہل قلم حضرات کے کارناموں کو مونو گراف کی شکل دینے آج ڈاکٹر محمد رحیم الدین انصاری صدر نشین اکیڈیمی کی صدارت میں اردو اکیڈیمی حج ہاوز حیدرآباد میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں پروفیسر مجید بیدار ، ڈاکٹر عقیل ہاشمی ، پروفیسر فاطمہ پروین ، پروفیسر محمد انور الدین ، پروفیسر بیگ احساس ، پروفیسر نسیم الدین فریس ، ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ، ڈاکٹر مصطفی علی سروری ، ڈاکٹر آمنہ تحسین ، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے شرکت کی ۔ ڈائرکٹر / سکریٹری نے بتایا کہ تمام شرکاء اجلاس نے دکن سے وابستہ تقریبا 65 دانشوران ماہرین اردو ، اساتذہ ، اسکالرس کے نام مونو گراف کے لیے پیش کئے جنہیں تمام شرکاء کی رائے اور صدر نشین کی اجازت سے منظوری دی گئی اور طئے کیا گیا مذکورہ 65 اصحاب فن کے کارناموں اور کوائف پر ممتاز قلم کاروں سے سوانحی خاکے کے انداز میں مضامین تحریر کروائے جائیں اور انہیں مونو گراف کی شکل میں شائع کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں منتخب مضمون نگاروں سے 15 مئی تک اپنے مضامین روانہ کرنے کی خواہش کی گئی ہے ۔۔