جج نے سینئر وکیل کی اعانت طلب کی، نان کیڈر عہدیدار کے تقررکو چیلنج
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اردو اکیڈیمی کے سکریٹری ڈائرکٹر کے عہدہ پر قواعد کے خلاف تقرر معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سینئر کونسل سریندر راؤ کو ہائی کورٹ کی اعانت کرنے کی خواہش کی۔ جسٹس ابھینند کمار شیوانی کے اجلاس پر آج اس معاملہ کی سماعت ہوئی جس میں درخواست گذار نے شکایت کی ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت نے سکریٹری ڈائرکٹر کے عہدہ پر نان کیڈر عہدیدار کا تقرر کیا ہے۔ اردو اکیڈیمی سوسائٹی ایکٹ کے تحت کام کرتی ہے اور ایکٹ کے تحت سکریٹری ڈائرکٹر کے عہدہ پر حکومت کے ڈپٹی سکریٹری رتبہ کے عہدیدار کا تقرر کیا جانا چاہیئے لیکن حکومت نے ایک لیکچرر کا تقرر کیا ہے۔ جسٹس ابھینند کمار شیوانی نے اجلاس میں موجود سینئر کونسل سریندر راؤ سے اس معاملہ میں عدالت کی اعانت کرنے کی خواہش کی جس پر سریندر راؤ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جو تقرر کیا ہے وہ قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کی جانب سے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں نان کیڈر کو مقرر کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ سرکاری وکیل نے اعتراف کیا کہ موجودہ سکریٹری ڈائرکٹر عہدہ کیلئے اہلیت نہیں رکھتے۔ جج نے ریمارک کیا کہ اگر تقرر قواعد کے خلاف ہے تو پھر ڈائرکٹر کے ایک سال کے تمام فیصلے کالعدم قرار پائیں گے اور حکومت کو ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لینا پڑے گا۔ جج نے سینئر کونسل کو اس معاملہ میں عدالت کی اعانت کرنے کی خواہش کی۔ سکریٹری ڈائرکٹر کے وکیل نے عدالت سے جواب کیلئے وقت مانگا جس پر آئندہ سماعت 5 جنوری کو مقرر کی گئی ہے۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے کرپشن کے الزامات پر محکمہ کے سیکشن آفیسر کی خدمات جی اے ڈی کو واپس کردی اور اردو اکیڈیمی کے ایک عہدیدار کے خلاف تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔
