تلنگانہ اسمبلی سے کانگریس کا واک آؤٹ، عوامی مسائل پر مباحث کی اجازت نہیں

   

بھٹی وکرمارکا کی وزراء سے نوک جھونک، کانگریس رکن کے ریمارکس ریکارڈ سے حذف
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت عوامی مسائل پر مباحث کیلئے تیار نہیں ہے۔ گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے کسانوں کے علاوہ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کو موضوع بحث بنانے کی کوشش کی۔ اسپیکر نے انہیں مقررہ وقت سے زیادہ اظہار خیال کی اجازت نہیں دی جس پر بھٹی وکرمارکا اور ریاستی وزراء کے درمیان نوک جھونک ہوئی۔ کانگریس ارکان نے حکومت پر عوامی مسائل سے فرار کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عوامی مسائل پر اپوزیشن ارکان کو اظہار خیال کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر اور وزراء غلط بیانی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ واک آوٹ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کسانوں کو درپیش مسائل کے سلسلہ میں اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ مرکزی زرعی قوانین کے خلاف حکومت قرارداد منظور کرنے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور وزراء نے تقریر کے دوران بار بار مداخلت کرتے ہوئے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ عوامی مسائل کو پیش کرنا کیا غلطی ہے جس کے لئے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا گیا ۔ اسمبلی کا اجلاس عوامی مسائل کو پیش کرنے کیلئے ہے لیکن برسر اقتدار پارٹی غیر جمہوری انداز میں حکومت چلا رہی ہے ۔ اپوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو منحرف کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں ، بیروزگاروں اور نوجوانوں کے مسائل کے علاوہ بڑھتی مہنگائی پر مباحث کیلئے حکومت تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ترقی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔ ہر شعبہ میں بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں ۔ حکومت قرض حاصل کرتے ہوئے ضروریات کی تکمیل کر رہی ہے۔ انہوں نے آبپاشی پراجکٹس میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا الزام عائد کیا ۔ بھٹی وکرمارکا کے بعض ریمارکس کو اسپیکر نے ریکارڈ سے حذف کردیا ۔ انہوں نے تلنگانہ میں امن و ضبط کی صورتحال کو ابتر قرار دیا اور کہا کہ قتل اور دیگر جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ پارٹی ارکان سریدھر بابو ، سیتکا ، رام موہن راؤ اور راج گوپال ریڈی کے ساتھ بھٹی وکرمارکا نے ایوان سے بطور احتجاج واک آؤٹ کردیا۔