… ( تلنگانہ اسمبلی میں وقفہ سوالات ) …

   

l کریم نگر تا یلاریڈی قومی شاہراہ میں تبدیلی کا پراجکٹ
l خانگی کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ
l سیلف ہیلپ گروپس کو بلاسودی قرض کی فراہمی
l گرام پنچایتوں کو اسٹامپ ڈیوٹی میں حصہ داری
l ملکاجگیری میں روڈ انڈر بریجس کی تعمیر
l حیدرآباد میں گلوبل کیپبلیٹی سنٹرس کا قیام
حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کریم نگر ۔ کاماریڈی تا یلاریڈی اسٹیٹ ہائی وے کو قومی شاہراہ میں تبدیل کرنے کی تجویز مرکزی حکومت کے پاس زیر غور ہے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کانگریس کے مدن موہن راؤ کے سوال پر وزیر عمارات و شوارع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر نیتن گڈکری کو قومی شاہراہ میں تبدیلی کا منصوبہ روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے اس تجویز کو اصولی طور پر منظوری دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر عمل آوری کی مساعی کی جارہی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ قومی شاہراہ میں تبدیلی سے حادثات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ کانگریس کے مدن موہن راؤ نے پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل پر زور دیا۔ بی آر ایس کے سبیتا اندرا ریڈی اور پرشانت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی اور موجودہ حکومت کو اس کی عاجلانہ تکمیل پر توجہ دینی چاہیئے۔ قومی شاہراہ میں تبدیلی کی صورت میں حادثات کی روک تھام کے ذریعہ انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔
ll وزیر بھاری مصنوعات ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کے قیام کیلئے ضرورت اور دستیابی کے اعتبار سے اراضی الاٹ کی جارہی ہے۔ کانگریس رکن کے ناگراجو کے سوال پر ڈی سریدھر بابو نے بتایا کہ ٹیکنیکل کمیٹی کے جائزہ لینے کے بعد ہی حکومت خانگی کمپنیوں کو اراضی الاٹ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آئیڈیا اور ٹی پرائیڈ اسکیمات کے تحت حکومت صنعتوں کیلئے مختلف مراعات کی پیشکش کررہی ہے جس میں سبسیڈی، اسٹامپ ڈیوٹی ری ایمبرسمنٹ کے علاوہ رعایتی شرحوں پر برقی اور دیگر سہولتیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانگی شعبہ میں تحفظات کی فراہمی کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اِسکل یونیورسٹی کے ذریعہ پیشہ ورانہ کورسیس میں تربیت دی جائے گی تاکہ خانگی اداروں میں روزگار حاصل کریں۔
ll وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا نے بتایا کہ اندرا مہیلا شکتی پالیسی کے تحت حکومت نے سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ خواتین کو بلاسودی قرض کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ بی آر ایس ارکان سنیتا لکشما ریڈی، کے لکشمی اور دوسروں کے سوال پر وزیر پنچایت راج نے بتایا کہ آئندہ پانچ برسوں میں سیلف ہیلپ گروپس کو ایک لاکھ کروڑ قرض کی فراہمی کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم پر جلد عمل آوری کی جائے گی۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ بینکوں اور سریندھی سے بلاسودی قرض کے حصول کیلئے 2015 میں جی او جاری کیا گیا تھا جس میں 5 لاکھ روپئے تک قرض کی گنجائش تھی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پنچایت راج کے تحت اپریل 2019 سے نومبر 2023 تک 3549 کروڑ کی قرض اجرائی زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو ہر ماہ 2500 روپئے امداد کی اسکیم حکومت کے زیر غور ہے۔
ll وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا نے بتایا کہ گرام پنچایتوں کو اسٹامپ ڈیوٹی اور فی کس آمدنی کے اعتبار سے فنڈز جاری کئے جاتے ہیں۔ جے انیرودھ ریڈی کے سوال پر وزیر پنچایت راج نے بتایا کہ 2014 سے 2016 تک گرام پنچایتوں کو ڈسٹرکٹ رجسٹرار کے ذریعہ راست طور پر اسٹامپ ڈیوٹی منظور کی گئی۔2017-18 کے دوران 200 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ ایک سال قبل 147.40 کروڑ جاری کئے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فی کس آمدنی گرانٹ کے طور پر گرام پنچایتوں کو 2014-15 میں 2.90 کروڑ، 2015-16 میں 3.90 کروڑ، 2017-18 میں 3.90 کروڑ جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2018 پنچایت راج ایکٹ کے تحت اسٹامپ ڈیوٹی کلکشن کو روک دیا ہے اور فی کس آمدنی گرانٹ کی اجرائی مسدود کردی گئی۔
ll وزیر بلدی نظم و نسق نے بتایا کہ ریلوے حکام سے بہتر تال میل کے ذریعہ روڈ انڈر بریجس اور روڈ اوور بریجس کی تعمیر عمل میں لائی جارہی ہے۔ بی آر ایس کے ایم راج شیکھر ریڈی کے سوال پر وزیر بلدی نظم و نسق نے بتایا کہ ریلوے ٹریک کے قریب بریجس کی تعمیر کے سلسلہ میں سرکاری محکمہ جات ریلوے حکام کے ساتھ بہتر تال میل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آر کے پورم، صفیل گوڑہ، ملکاجگری، ونائیک نگر، مولاعلی اور واجپائی نگر میں بریجس کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے۔ سرکاری محکمہ جات اور ریلویز کی جانب سے مشترکہ طور پر اخراجات کی تکمیل کی جاتی ہے۔ بعض پراجکٹس میں ریلویز اور ریاستی حکومت صدفیصد اخراجات ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور ریلویز نے مشترکہ طور پر بعض پراجکٹس کی تکمیل کی ہے۔
ll وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ کئی غیر ملکی کمپنیوں نے حیدرآباد میں اپنے مراکز کے قیام میں دلچسپی دکھائی ہے۔ مال ریڈی رنگاریڈی کے سوال پر سریدھر بابو نے بتایا کہ کئی عالمی سطح کی کمپنیوں نے حیدرآباد میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جن میں گوگل، امیزان، مائیکروسافٹ، ایپل، انٹیل، فیس بک، گولڈ میان اور دوسرے ادارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں 200 سے زائد گلوبل کیپبلیٹی سنٹرس قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں کئی امریکی اداروں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی اداروں کو کئی مراعا