ریڈی43 ، ویلما 13 اور کما کے 4 ارکان اسمبلی
حیدرآباد۔/6 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پھر ایک مرتبہ اعلیٰ طبقات کا غلبہ رہے گا جبکہ مسلم نمائندگی میں گذشتہ کے مقابلہ کمی ہوئی ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں 1983 سے اسمبلی میں اعلیٰ طبقات کی اجارہ داری رہی اور ان کے زائد ارکان منتخب ہوئے۔ ریڈی، ویلما اور کما طبقات کی آبادی تلنگانہ میں کم ہے لیکن ان کے منتخب ارکان اسمبلی کی تعداد زیادہ ہے۔ گذشتہ 40 برسوں کے دوران ہر اسمبلی میں ریڈی طبقہ کے 30 تا 43 ارکان دیکھے گئے جبکہ ویلما طبقہ کے 8 تا 13 ، کما 3 تا 8 اور برہمن طبقہ کے ایک تا 7 ارکان منتخب ہوتے رہے۔ گذشتہ چند برسوں میں برہمن طبقہ کی نمائندگی میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ بی سی طبقہ کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ موجودہ نئی اسمبلی میں ریڈی طبقہ کے 43 ، ویلما 13 اور کما طبقہ کے 4 ارکان اسمبلی ہیں۔ برہمن اور ویشیا طبقات سے ایک، ایک رکن اسمبلی منتخب ہوا جس کے نتیجہ میں ایوان میں 52 فیصد اعلیٰ طبقات کی نمائندگی ہے۔ باقی ارکان میں 19 بی سی ہیں جو 16 فیصد ہوتے ہیں جبکہ ان کی آبادی 50 فیصد سے زائد ہے۔ محفوظ نشستوں کے تحت 19 ایس سی اور 12 ایس ٹی ارکان منتخب ہوئے جبکہ مجلس کے 7 ارکان منتخب ہوئے ہیں۔ بی آر ایس اور کانگریس کا کوئی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔