تلنگانہ اسمبلی کا 16 تا 30 مارچ بجٹ سشن ۔ 20 مارچ کو ریاستی بجٹ پیش کیا جائے گا

   

٭ 16 مارچ کو گورنر اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے
٭ سرکاری ملازمین اور وطیفہ یابوں کیلئے حادثاتی انشورنس اسکیم نافذ کی جائے گی
٭ ایل اینڈ ٹی کمپنی سے میٹرو ٹرین کا مکمل کنٹرول حاصل کیا جائیگا ۔ ریاستی کابینہ کے فیصلے

حیدرآباد : 23فبروری ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے کابینہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کرتے ہوئے 16 سے 30 مارچ کے درمیان ریاستی اسمبلی کا بجٹ سیشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ 16ماچ کو گورنر دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جبکہ 20 مارچ کو مالیاتی سال 2026-27ء کا بجٹ پیش کیا جائے گا ۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو تفصیل سے واقف کرواتے ہوئے وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کی فلاح و بہبود کیلئے دو بڑی اورمثالی اسکیمات کو منظوری دی گئی ہے ۔ کابینہ نے ریاست کے تمام سرکاری ملازمین اور پنشنرس کیلئے حادثاتی انشورنس اسکیم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ملازمین کو کسی قسم کا پریمیم ادا نہیں کرنا ہوگا ۔ حکومت پہلے اس اسکیم کو سنگارینی اور ٹرانسکو میں نافذ کرچکی ہے ۔ اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ریاست بھر میں توسیع دی جارہی ہے ۔ اس اسکیم کے تحت کسی ملازمین یا ریٹائرڈ ملازمین کی حادثاتی موت واقع ہوجاتی ہے تو 1.2کروڑ روپئے تک انشورنس معاوضہ دیا جائے گا ۔ ملازمین کے 60 سال تک قدرتی موت کی صورت میں بھی 10لاکھ روپئے کا ٹرم انشورنس فراہم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 5 لاکھ 19 ہزار باقاعدہ ملازمین ہیں اور 2لاکھ 38 ہزار وظیفہ یاب ہیں ۔ اس طرح مجموعی طور پر 7.57 لاکھ افراد اس حادثاتی انشورنس اسکیم سے مستفید ہوں گے ۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ یہ انشورنس اسکیم بینکوں کے ذریعہ نافذ کی جائے گی تاکہ ملازمین اور حکومت پر اضافی مالی بوجھ عائد نہ ہوسکے ۔ پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ کابینہ نے سرکاری ملازمین کی ایک اور دیرینہ مانگ کو پورا کرتے ہوئے کیش لیس ایمپلائی ہیلت اسکیم (EHS) کو بھی منظوری دے دی ہے ۔ اس اسکیم کے تحت سرکاری ملازمین بغیر ایک روپیہ ادا کریں سرکاری خانگی جملہ 652 ہاسپٹلس میں اپنا علاج کراسکتے ہیں ، جہاں 1998 مختلف طبی علاج کی سہولت دستیاب ہوگی ۔ یہ اسکیم ملازمین ، ریٹائرڈ ملازمین اور انکے ارکان خاندان 17.07 لاکھ افراد پر مشتمل ہوگی ۔ واضح رہے کہ اس اسکیم میں سرکاری ملازمین اپنی بنیادی تنخواہ کا 1.5 فیصد حصہ بطور شراکت جمع کرائیں گے اور حکومت مساوی حصہ ادا کرے گی ۔ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حیدرآباد میٹرو ریل کو حکومت ایل اینڈ ٹی سے اپنے کنٹرول میں لیگی۔ 31 مارچ 2026 تک اس عمل کو مکمل کرلینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کابینہ نے ضلع محبوب آباد گمدور میں جے این ٹی یو کالج کی تعمیر کیلئے 70 ایکڑ اراضی مختص کرنے اور ضلع کھمم میں ٹی ٹی ڈی کیلئے 20 ایکڑ اراضی مختص کرنے اور ضلع کھمم میں ٹی ٹی ڈی کیلئے 20 ایکڑ اراضی منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاست کے 21 اضلاع میں 25 اینٹی گریٹیڈ اسکولس کو منظوری دی گئی ہے ۔ بھدراچلم میں گرین فیلڈ منی اسٹیڈیم قائم کرنے کے علاوہ گرین انرجی پالیسی کو منظوری دی ہے ۔ وزیر سرینواس ریڈی نے بتایا کہ کابینہ نے مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق 2027ء کی مردم شماری کے آغاز کیلئے انتظامات پر بھی تفصیلی غور و خوص کیا ہے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے عمل کو مقررہ شیڈول کے مطابق مرحلہ وار انجام دیا جائیگا ۔ ریاست میں مردم شماری کے پہلے مرحلے یعنی ہاؤس لسٹنگ آپریشن کا آغاز 11مئی سے کیا جائے گا جو 9جون تک جاری رہے گا ۔ اس مرحلے میں گھروں کی بنیادی معلومات جمع کی جائیں گی ۔مرکز سے مقررہ کردہ 34 سوالات پر مشتمل سوالنامے کے پیٹرن کی وضاحت کی جائے گی جس کے تحت مکانات ، سہولیات اور خاندانی تفصیلات کا اندراج کیا جائے گا ۔ مردم شماری کے عمل کیلئے 89 ہزار ملازمین کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا ، انہیں تربیت دی جائے گی ۔ مردم شماری کا دوسرا مرحلہ فبروری 2027 میں منعقد کیا جائے گا جس میں آبادی سے متعلق تفصیلی معلومات اکٹھی کی جائے گی ۔ حکومت نے واضح کہا کہ مردم شماری ایک قومی فریضہ ہے اور اس کے درست انعقاد سے ریاست کی ترقیاتی منصوبہ بندی ،وسائل کی تقسیم اور فلاحی اسکیمات کی موثر عمل آوری میں مدد ملے گی ۔ 2