فلاحی اسکیمات حکومت کی اولین ترجیح، اجلاس کیلئے سخت سیکوریٹی انتظامات، ایٹالہ راجندر کا بی جے پی رکن کے طور پر داخلہ
حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کا بجٹ اجلاس کل 7 مارچ سے شروع ہوگا۔ بجٹ اجلاس کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب اجلاس کا آغاز ریاستی گورنر کے خطبہ کے بغیر ہورہا ہے۔ وزیر فینانس ہریش راؤ 11:30 بجے دن اسمبلی میں مالیاتی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کریں گے۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے بجٹ تجاویز کو منظوری دے دی ہے جسے آج شام کابینہ کے اجلاس میں منظور کیا گیا۔ بجٹ کی پیشکشی کے بعد بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں اسمبلی اور کونسل کے ایام کار کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے زیر بحث لائے جانے والے اُمور کو بھی قطعیت دی جائے گی۔ اسی دوران اجلاس کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے پولیس عہدیداروں کو موثر سیکوریٹی انتظامات کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ سال سرمائی اجلاس کو گورنر کی جانب سے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی نہیں کیا گیا لہذا بجٹ اجلاس کو گزشتہ اجلاس کا تسلسل کہا جارہا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ بجٹ میں فلاحی اسکیمات کیلئے زائد رقومات مختص کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے دلتوں کی معاشی امداد سے متعلق اسکیم دلت بندھو کیلئے بجٹ میں 20 ہزار کروڑ مختص کرنے کا امکان ہے۔ آبپاشی پراجکٹس کے علاوہ مشن بھگیرتا اور دیگر پراجکٹس کی رقومات میں کسی قدر کمی کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات پر توجہ دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ آسرا پنشن، سبسیڈی رائس، رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ ، کلیان لکشمی اور آروگیہ شری جیسی اسکیمات بجٹ میں حکومت کی ترجیحات رہیں گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہمیشہ آبپاشی اور زراعت کو ترجیح دی ہے تاہم بجٹ میں اس مرتبہ فلاحی اسکیمات کو زائد فنڈز مختص کئے جانے کا امکان ہے۔ غریبوں کو ایک روپیہ فی کیلو چاول کی سربراہی، کلیان لکشمی، شادی مبارک، فیس ری ایمبرسمنٹ، اسکالر شپ کیلئے زائد فنڈز مختص کئے جانے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئے مالیاتی سال حکومت بے روزگار نوجوانوں کیلئے ماہانہ الاؤنس کی اسکیم متعارف کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آسرا پنشن کیلئے لاکھوں درخواستیں زیر التواء ہیں اس کے علاوہ راشن کارڈ اور سبسیڈی پر قرض کی فراہمی کیلئے ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیت اور دیگر طبقات کی درخواستیں متعلقہ کارپوریشنوں میں زیر التواء ہیں۔ اسی دوران بجٹ اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے اور برسراقتدار پارٹی کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ بجٹ اجلاس کی خصوصی یہ ہے کہ ایٹالہ راجندر بی جے پی رکن اسمبلی کی حیثیت سے اسمبلی میں پہلی مرتبہ داخل ہوں گے جبکہ وہ تقریباً 17 برس تک اسمبلی میں ٹی آر ایس کی نمائندگی کرتے رہے لیکن اس بار وہ بی جے پی رکن کی حیثیت سے حکومت کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ چیف منسٹر سے اختلافات کے بعد انہیں اراضیات پر قبضوں کے الزامات کے تحت کابینہ سے برطرف کردیا گیا تھا۔ اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے کر راجندر نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور حضور آباد ضمنی چناؤ میں بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے۔ ر