تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ تباہی کے دہانے پر

   

Ferty9 Clinic

اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کا میمو وقف بورڈ اُمور میں مداخلت کے مترادف
حیدرآباد۔11جنوری(سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ تلنگانہ وقف بورڈ کو تباہ کرنے کی مرتکب بن رہی ہے اور وقف بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو وقف بورڈ کے وقار کو مجروح کرنے کے علاوہ بورڈ کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔ جناب محمد مسیح اللہ خان سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ نے اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تلنگانہ وقف بورڈ کو جاری کئے گئے میمو کو وقف بورڈ کے امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے حکومت سے استفسار کیا کہ ریاست میں برسر اقتدار کانگریس حکومت اس بات کی وضاحت کرے کہ ’تلنگانہ میں وقف بورڈ موجود ہے یا نہیں ‘؟ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میںمنتخبہ بورڈ کی موجودگی میں سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کا یہ اقدام ثابت کر رہاہے کہ ریاستی حکومت بی جے پی کے ایماء پر کام کر رہی ہے کیونکہ تلنگانہ میں وقف بورڈ کے اجلاسوں پر عائد پابندی کو ہٹانے کے اقدامات کے بجائے منتخبہ بورڈ وصدرنشین کے اختیارات کو خاموشی کے ساتھ سلب کیا جا رہاہے حالانکہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں نئے ایکٹ کے نفاذ کے باوجود پابندی کے ساتھ کرناٹک وقف بورڈ کے اجلاس منعقد کئے جار ہے ہیں اور وقف امور کو بہتربنانے کے لئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ تلنگانہ میں ریاستی حکومت کی نظریں صرف یونیورسٹیز کی اراضیات پر نہیں ہیں بلکہ وقف جائیدادوں پر بھی برسراقتدار سیاسی جماعت کے قائدین اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے قبضہ کی ساز ش کر رہے ہیں۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ وبی آر ایس قائد نے کہا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کے مسلمانوں پر یہ بات واضح کرے کہ آیا حکومت تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اپنے ہی منتخبہ بورڈ کے اختیارات کو محدود کرتے ہوئے بی جے پی کی پالیسی پر عمل آوری کررہی ہے اگر نہیں تو پھر ریاستی حکومت کے عہدیدار کیوں تلنگانہ وقف بورڈ کے امور میں مداخلت کرتے ہوئے ایک خود مختار ادارہ کو جو خالص مسلمانوں کا ہے نقصان پہنچانے کے مرتکب بن رہے ہیں۔جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ریاستی حکومت کو وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ فوری طور پر بورڈ کے اجلاس پر عائد کی گئی پابندی کو ختم کرتے ہوئے پڑوسی ریاست کرناٹک کے طرز پر بورڈ کو اپنے طور پر کارکردگی کا اختیار دینا چاہئے اگرحکومت اسی طرح بورڈ کے امور میں مداخلت کرتی ہے تو مستقبل کے لئے یہ نظیر بن جائے گی جو کہ تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کی تباہی کے لئے راہ ہموار کرنے کے مترادف ہوگا۔3