تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کا نظریہ ’ بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی ‘ کے مترادف

   

اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے بورڈ کے ہی عہدیداران ذمہ دار ، سیاسی قائدین کی سرپرستی
حیدرآباد۔14جولائی(سیاست نیوز) وقف جائیدادوں کے متعلق بورڈ کا نظریہ ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی ‘‘ بنا ہوا ہے اور یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کی صورت میں وقف ایکٹ کی تنسیخ کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کو تباہ کیا جانے لگا ہے اور وقف جائیدادوں کی تباہی کے سلسلہ میں شکایت پر یہ کہا جا رہاہے کہ یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ تک ہی جائیدادوں کی بات کی جائے گی اور اس کے بعد کوئی وقف ایکٹ ہی نہیں ہوگا تو کس وقف جائیداد کی بات کی جا ئے گی! اس گفتگو سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جس یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کی تیاری کی جا رہی ہے اس کا مسودہ کسی اور نہیں تو تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں اور اراکین کو حاصل ہوچکا ہے اسی لئے وہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے نام پر ان جائیدادوں کی تباہی کے مرتکب بن رہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ سرکاری دباؤ اوربرسر اقتدار جماعت کے وزراء ‘ ارکان پارلیمان ‘ ارکان اسمبلی اور پارٹی قائدین کے دباؤ کے سبب قابضین کے خلاف کاروائی سے قاصر ہے اور بددیانت وکلاء جو وقف عملہ سے ساز باز کئے ہوئے ہیں ان کے ساتھ قابضین کی مدد کی جا رہی ہے اور اس مدد کے حصول کے لئے سیاسی دلالوںکو متحرک کیا گیا ہے جو کہ برسراقتدار سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ ’کونگرا خرد‘‘ میں واقع درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے علاوہ ایک اورادارہ کے تحت موقوفہ ہے اس جائیداد پر قابضین کو رجسٹری کی راہ ہموار کی جارہی ہے اور ان قبضہ جات کو برخواست کروانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی قیمتی اوقافی جائیداد کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔مہیشورم منڈل کے کونگراخرد موضع میں موجود 200 سے زائد ایکڑ موقوفہ اراضی جو کہ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت ہے اس اراضی پر ہونے والے قبضہ جات کے خلاف کاروائی کے بجائے ابھی جو اراضی کھلی ہے ان کے تحفظ کے اقدامات کے بجائے ان کے رجسٹریشن کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں ۔ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بعض سینیئر ملازمین جو کہ خود کو اوقافی جائیداد کے محافظ کے طور پر پیش کر تے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں اور سیاسی قائدین سے قربت اختیارکئے ہوئے ہیں وہ اپنے غلط مشوروں اور بورڈ کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے ذریعہ اعلیٰ عہدیداروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وقف بورڈ میں صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کی ناک کے نیچے جاری دھاندلیوں کے متعلق وہ کس قدرواقف ہیں یہ بات وثوق کے ساتھ کہنا مشکل ہے کیونکہ وقف کے امور کے سلسلہ میں ان کی معلومات اب بھی نامکمل ہے اور وہ سینیئر اراکین پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ وقف جائیدادوں کی تباہی کے سلسلہ میں خبروں کی اشاعت پر اعلیٰ عہدیدار اور حکومت میں شامل بعض وزراء کا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست میں موقوفہ اراضیات کے تحفظ کے لئے حکومت کی جانب سے بہت کچھ کیا جا رہاہے لیکن اگر وقف بورڈ کے عملہ کی جانب سے ہی جائیداد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جار ہی ہے تو ایسی صورت میں حکومت کیا کرسکتی ہے !حکومت میں شامل وزیر جن کے فرزند شمس آباد‘ پہاڑی شریف اور بندلہ گوڑہ میں موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کے راست ذمہ دارہیں وہ بورڈ کے بدعنوان عہدیداروں کی سرپرستی کرتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ریاست میں موقوفہ اراضیات کے معاملہ میں حکومت خود غیر سنجیدہ ہے ۔ 9 برسوں کے دوران ریاست تلنگانہ میں کتنی اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا اور کتنی اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو تشکیل تلنگانہ کے بعد وقف بورڈ کی کارکردگی مجموعی طور پر صفر رہی اور اس مدت میں کروڑہا روپئے کی جائیدادوں کے مقدمات میں وقف بورڈ کو شکست کا سامناکرنا پڑا ہے۔ یلکا پلی‘ پدا منگلارم میں واقع 187 ایکڑ موقوفہ جائیداد کو ’’ آٹو لاک‘‘ نہ کئے جانے کے سلسلہ میں انکشاف کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسی علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک بی آر ایس قائد ’’ریڈی صاب‘‘ نے قابضین ‘ مقامی ارکان اسمبلی کے علاوہ ریاستی وزیر سے اس اراضی کی معاملت کرتے ہوئے محکمہ مال اور وقف بورڈ کے عہدیداروں سے ملی بھگت کے ذریعہ اس جائیداد پر گنٹوں میں سینکڑوں رجسٹریشن کروائے ہیں جنہیں فوری طور پر منسوخ کروانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ ریاستی وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار جو اس طرح کی سرگرمیوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں وہ وقف بورڈ میں طویل مدت سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کی مدد حاصل کرتے ہوئے اس طرح کی دھاندلیوں کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر کیمپ آفس کے عملہ کی وقف بورڈ کے ذمہ داروں سے ساز باز اور کئی درگاہوں کے معاملات میں مداخلت اور اس سلسلہ میں کئی انکشافات کے باوجود وقف بورڈ کی سردمہری سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں میں یہ احساس پیدا ہوتا جا رہاہے کہ وقف بورڈ میں جاری دھاندلیوں پر ردعمل ظاہر نہ کرتے ہوئے انہیں فراموش کیا جاسکتا ہے لیکن اب حکومت کی جانب سے ان دھاندلیوں کی پشت پناہی کی اطلاعات نے خود برسر اقتدار سیاسی جماعت کے ذمہ داروں کو حواس باختہ کردیا ہے۔(جاری)