انجینئرنگ اسٹاف کالج میں تعمیراتی کاموں کا جائزہ ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال
حیدرآباد۔8۔ جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اسکل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں جلد فیصلہ کرے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج انجنیئرنگ اسٹاف کالج گچی باؤلی میں زیر تعمیر عمارتوں کا معائنہ کرتے ہوئے عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران ہدایت دی کہ اندرون 15یوم اسکل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں اعلی پیمانے کی تجاویز تیار کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومت کو پیش کی جائیں تاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس یونیورسٹی کے قیام کے متعلق فوری طور پر فیصلہ کیا جاسکے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے منعقد کئے گئے اس اجلاس کے دوران ان کے ہمراہ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر ڈی سریدھر بابو‘ مشیر برائے حکومت تلنگانہ مسٹر ویم نریندر ریڈی کے علاوہ کئی صنعتکار موجود تھے ۔چیف منسٹر نے کہا کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں منعقد ہونے والے اسمبلی اجلاس سے قبل اگر یہ تجاویز موصول ہوجاتی ہیں تو ریاستی حکومت کی جانب سے اسکل یونیورسٹی کے قیام کو اندرون 24گھنٹے منظوری دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے کہ اس یونیورسٹی کا حکومت کی جانب سے قیام عمل میں لایا جائے یا نجی شراکت داری کے ذریعہ اس نئی یونیورسٹی کے قیام کے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی اس یونیورسٹی میں نئے ایسے کورسس متعارف کروائے جائیں گے جن کی مانگ زیادہ ہے۔ انہو ں نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ صنعتوں میں جو مانگ ہے اس کا جائزہ لینے کے علاوہ صنعتکاروں سے مشاورت کے بعد اس یونیورسٹی کے کورسس کا تعین کرنے کے علاوہ اس کا نصاب تیار کرنے کے اقدامات کریں۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اسکل یونیورسٹی کے قیام کے ذریعہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اس میں صنعتی اداروں اور صنعتکاروں کا تعاون حاصل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہو ںنے انڈین اسکول آف بزنس کے طرز پر اس یونیورسٹی کے لئے بھی ایک بورڈ کی تشکیل کی تجویز پیش کی اور اس اجلاس میں موجود ذمہ داروں کو عارضی بورڈ کے طور پر منظوری دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں یونیورسٹی کے امور اور نصاب کی تیاری کے علاوہ کورسس کے متعلق رہنمایانہ خطوط تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس یونیورسٹی کے بجٹ اور دیگر امور کے سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک کے علاوہ مسٹر ڈی سریدھر بابوسے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے ۔ انہو ںنے کہا کہ اس یونیورسٹی کے لئے نوڈل ایجنسی محکمہ صنعت ہوگا۔ چیف منسٹر نے عہدیدار وںکو ہدایت دی کہ وہ جنگی خطوط پر اس سلسلہ میں تجاویز تیار کرنے کے اقدامات کریں۔ بتایاجاتا ہے کہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جدید علوم اور ہنر سکھانے کے لئے قائم کی جانے والی اس یونیورسٹی کا قیام اگر انجنیئرنگ اسٹاف کالج کے احاطہ میں ہی عمل میں لائے جائے تو بہتر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے قیام سے ریاست سے بے روزگاری کے خاتمہ میں اہم پیشرفت ہوگی اور ہنر مند بننے کے بعد نوجوانوں کو بہترین صنعتی اداروں میں خدمات انجام دینے کا موقع میسر آئے گا۔ اجلاس کے دوران وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ‘ مشیر برائے حکومت تلنگانہ کے علاوہ اسپیشل چیف سیکریٹری آئی ٹی مسٹر جئیش رنجن ‘ پرنسپل سیکریٹری محکمہ تعلیم بی وینکٹیشم ‘ اسپیشل سیکریٹری برائے چیف منسٹر مسٹر اجیت ریڈی ‘ صدرنشین ڈاکٹر ریڈی لیاب مسٹر ستیش ریڈی ‘ مسٹر ہری پرساد بھارت بائیو ٹیک‘ مسٹر راج شیکھر ریڈی صدر کریڈائی کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔چیف منسٹر نے اجلاس سے قبل انجنیئرنگ اسٹاف کالج میں زیر تعمیر کنونشن سنٹر کی عمارت کا معائنہ کیا اور اس میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کے متعلق دریافت کرتے ہوئے تجاویز پیش کیں۔3