عثمانیہ یونیورسٹی ، اوقافی اراضی اور سابق عہدیداروں کے مسائل پر جواب طلبی
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کا اجلاس آج صدر نشین محمد قمر الدین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیشن کے ارکان ایم اے عظیم، ریٹائرڈ جج ایم اے باسط اور کمیشن کے مشیران ایم اے قدیر صدیقی اور ایم اے رفیق نے اجلاس میں شرکت کی۔ 10 مختلف مقدمات کی سماعت کی گئی اور احکامات جاری کئے گئے۔ کمیشن نے بنجارہ ہلز میں سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں مالک اراضی کو معاوضہ ادا نہ کئے جانے کے معاملہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے اسٹانڈنگ کونسل اور اسسٹنٹ سٹی پلانر کے موقف کی سماعت کی۔ جی ایچ ایم سی نے بتایا کہ خود مالک اراضی نے سڑک کی توسیع کیلئے زمین کو چھوڑا تھا لہذا معاوضہ کی ادائیگی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کردیا گیا ہے۔ کمیشن نے محمد خالد سرور ریٹائرڈ ایڈیشنل ٹاؤن پلانر اور افضل علی ریٹائرڈ ٹاؤن پلاننگ سوپر وائزر کے مقدمہ کی سماعت کی جس میں معطلی کی مدت کے ریگولرائزیشن اور ریٹائرمنٹ بینفٹ ادا نہ کئے جانے کی شکایت کی گئی۔ خالد سرور کے معاملہ میں بلدیہ نے جواب داخل کرنے کیلئے ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 7 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ افضل علی کے معاملہ میں بھی مجلس بلدیہ نے رپورٹ پیش کرنے کیلئے کمیشن سے وقت مانگا۔ کمیشن نے سنگاریڈی میں سروے نمبر 170 کے تحت 15 ایکر 8 گنٹے اراضی کے معاملہ کی سماعت کے بعد شخصی طور پر معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اقلیتی کمیشن نے کونڈہ پور موضع کے شیرلنگم پلی میں 366.66 مربع گز اراضی پر ناجائز قبضے کے معاملہ میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر رتنا کلیانی کے موقف کی سماعت کی۔ اس سلسلہ میں تحصیلدار کو سروے منعقد کرنے کیلئے مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیشن نے چیرمین بورڈ آف اسٹڈیز، سنٹر آف اڈوانسڈ اسٹڈیز، لنگوسٹک عثمانیہ یونیورسٹی محمد انصاری کی درخواست کی سماعت کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے عہدیدار وینکٹیشورلو نے اجلاس کے روبرو موقف پیش کیا۔ کمیشن نے رجسٹرار کی شخصی حاضری کی ہدایت دی اور آئندہ سماعت 21 ستمبر کو مقرر کی۔ کمیشن نے جنگاؤں میں 3 ایکر 27 گنٹے اراضی کے معاملہ میں تحصیلدار اور سب رجسٹرار جنگاؤں کو آئندہ سماعت کے موقع پر حاضر ہونے کی نوٹس جاری کی ہے۔ محبوب نگر میں 110 مربع گز اوقافی اراضی کے معاملہ میں کمیشن نے فریقین کی سماعت کی اور فیصلہ کو محفوظ کردیا۔ جامع مسجد محبوب نگر کے نام پر یہ اراضی موجود ہے تاہم اس پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔