تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ حکومت کو پیش

   

تعلیمی اور معاشی مسائل کی یکسوئی میں اہم رول، صدرنشین محمد قمر الدین کا بیان
حیدرآباد۔/7 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے حکومت کو سال 2020-21 کی کارکردگی رپورٹ پیش کی ہے۔ کمیشن نے ایک سال کی مدت میں437 کیسس کو رجسٹرڈ کیا ان میں سے 279 کیسس کی باہمی مشاورت کے ذریعہ یکسوئی کی گئی جبکہ 158 کیسس میں کمیشن نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف محکمہ جات کو ہدایات جاری کی ہے۔ محمد قمر الدین کے صدرنشین کی حیثیت سے تقرر کے بعد جنوری 2018 میں اقلیتی کمیشن کارکرد ہوا۔ کمیشن کے نائب صدر نشین کے علاوہ 6 ارکان شامل تھے۔ اقلیتوں کے تعلیمی اور معاشی مسائل کی یکسوئی میں اقلیتی کمیشن کا رول غیر معمولی رہا اور تین سال کی مدت کے دوران کمیشن نے کئی اہم اُمور کی یکسوئی کیلئے سرکاری اداروں کو پابند کیا۔ حکومت کو پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ایک سال کی مدت میں مسلم، عیسائی، پارسی، بدھسٹ، سکھ طبقات کے مسائل کی نہ صرف سماعت کی گئی بلکہ عہدیداروں کو کمیشن کے روبرو طلب کرتے ہوئے ہدایات جاری کی گئیں۔ اقلیتوں پر مظالم کے واقعات میں کمیشن نے متاثرین کو انصاف دلانے میں اہم رول ادا کیا۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو گریجویشن کورسیس کی بحالی میں کمیشن کے رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کمیشن نے عثمانیہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز سے متعلق اقلیتی اسٹاف کے مسائل اور جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں اقلیتوں کو انصاف رسانی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین محمد قمر الدین نے کہا کہ حکومت نے کمیشن کو نمایاں کارکردگی میں مکمل تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سیکولر اور اقلیت دوست قائد ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کے تعلیمی اور معاشی مسائل کے حل کے لئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں نے کمیشن کی کارکردگی میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ سرکاری محکمہ جات میں مسلمانوں کو بی سی ای زمرہ کے تحت 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کمیشن نے تمام سرکاری محکمہ جات سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سرکاری محکمہ جات میں 4 فیصد عہدوں پر مسلمانوںکو نمائندگی کے اقدامات کئے گئے۔ اپریل 2020 سے جنوری 2021 تک کمیشن کے 9 اجلاس ہوئے۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع میں بھی اقلیتوں کے اراضیات پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے کمیشن نے عہدیداروں کو ہدایت جاری کی۔ کمیشن نے گذشتہ ایک سال میں کئی اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا شخصی طور پر جائزہ لیا۔ انہوں نے دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی کا دورہ کیا اور ادارہ کو مستحکم بنانے کیلئے وائس چانسلر کو رپورٹ پیش کی۔ر