تلنگانہ امن کا گہوارہ، حیدرآباد کرفیو سے پاک، میری زندگی تک ریاست سیکولر رہے گی

,

   

400 روپے میں گیس سلنڈر، 5 لاکھ روپے کا غریبوں کو انشورنس، 15 لاکھ روپے تک مفت علاج، جڑچرلہ ۔ میڑچل کے جلسوں سے چیف منسٹر کا خطاب

گنیش جلوس کے دن میلاد النبی ؐ کا جلوس ملتوی کرنے پر مسلمانوں کو سلوٹ

حیدرآباد۔ 18 اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے گنیش جلوس کے موقع پر میلاد النبیؐ کا جلوس ملتوی کرنے پر مسلمانوں کو سلوٹ کرتے ہوئے ان سے اظہار تشکر کیا۔ اسکو ہندو ۔ مسلم اتحاد کی زندہ مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے مسلمانوں نے ملک کو امن کا پیغام دیا ہے۔ وہ جب تک زندہ ہے تلنگانہ ریاست سیکولر ریاست رہے گی جس کا وہ وعدہ کرتے ہیں۔ اسمبلی حلقہ جات جڑچرلہ اور میڑچل میں بی آر ایس کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کسی نے بھی مفت میں تشکیل نہیں دیا۔ اس کے لئے کئی افراد اور طلبہ نے قربانیاں دی ہیں۔ کئی لوگ مشکلات کا شکار ہوئے یہاں تک کہ خود انہوں نے بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کی۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد دریائے کرشنا سے پانی کی تقسیم کا تجزیہ کیا گیا، کانگریس کے ارکان اسمبلی نے غلامی کی حد کردی جورالا سے پانی نہیں ملا۔ ایسی کانگریس پارٹی دوبارہ موقع دینے کا عوام سے مطالبہ کررہی ہے۔ اگر غلطی سے بھی کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو تلنگانہ دوبارہ 50 سال پیچھے ہو جائے گا۔ برقی گل ہو جائے گی، فلاحی اسکیمات برخواست کردی جائیں گی۔ ریتو بندھو اسکیم منسوخ کردی جائے گی۔ 1956 میں تلنگانہ کو بدقسمتی سے آندھرا پردیش میں ضم کیا گیا جس کے بعد سے 60 سال تک ہر شعبہ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی۔ متحدہ آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے ایک روپیہ بھی نہ دینے کا اعلان کیا مگر کانگریس قائدین خاموش رہے۔ علیحدہ ریاست کی کامیاب تحریک کے بعد تلنگانہ ریاست کو مختصر عرصہ میں سارے ملک میں سرفہرست کردیا گیا۔ تلنگانہ میں 10 سال سے امن و امان سے حیدرآباد میں کوئی فساد نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی کرفیو نافذ کرنے کی نوبت آئی ہے۔ اگر کانگریس حکومت تشکیل پائی تو ہر سال ایک چیف منسٹر تبدیل ہوگا۔ کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہوگی۔ ریاست کا امن خطرہ میں پڑ جائے گا۔ بدعنوانیوں سے ریاست کی مالی حالت بحران کا شکار ہو جائے گی۔ ترقی کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے۔ ریتو بندھو، دلت بندھو اسکیم کو ختم کردیا جائے گا۔ کانگریس سے ہوشیا و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس پارٹی ایک قومی جماعت ہے مگر تلنگانہ کے عوام سے جو وعدے کئے جارہے ہیں ان وعدوں پر کانگریس کے زیر اقتدار ریاستوں میں کوئی عمل آوری نہیں ہو رہی ہے۔ کرناٹک میں 20 گھنٹے برقی دینے کا انتخابات میں وعدہ کیا گیا مگر کل ہی چیف منسٹر نے صرف 5 گھنٹے برقی دینے کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ریونت ریڈی صرف 3 گھنٹے برقی دینے کی بات کررہے ہیں۔ عوام فیصلہ کریں انہیں 24 گھنٹے برقی چاہئے یا تین گھنٹے برقی چاہئے۔ بی آر ایس حکومت نے 10 سال کے دوران ذات پات، مذہب اور علاقہ سے بالاتر ہوکر تلنگانہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کام کیا ہے۔ حیدرآباد کے اطراف و اکناف کے چار اسمبلی حلقہ جات میڑچل، ایل بی نگر، اپل اور قطب اللہ پور منی انڈیا میں تبدیل ہوگئے۔ یہاں پر ملک کی مختلف ریاستوں کے باشندوں کے علاوہ تلنگانہ کے عوام رہتے بستے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے گئے۔ مزید ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم تعمیر کئے جائیں گے۔ تلنگانہ ہر اعتبار سے دولتمند اور خوشحال ریاست میں تبدیل ہو گئی۔ انتخابات آتے ہی کانگریس اور بی جے پی کے قائدین تلنگانہ کے اطراف و اکناف منڈلا رہے ہیں۔ حکومت کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کررہے ہیں۔ 50 سال قبل تلنگانہ کی تحریک چلانے والے نوجوانوں کو کانگریس نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا کیا ایسی کانگریس پر آج بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو ترقی ٹھپ ہو کر رہ جائے گی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس کے قائدین دہلی کے اور بی جے پی کے قائدین گجرات کے غلام ہیں۔ عوام کے حق میں وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی انہیں اختیارات ہیں۔ انہیں دہلی اور گجرات سے اجازت لینی پڑتی ہے جبکہ بی آر ایس کی ہائی کمان تلنگانہ کی عوام ہے اور بی آر ایس پارٹی تلنگانہ عوام کو جوابدہ ہے۔ بی آر ایس حکومت سماج کے تمام طبقات کے لئے کام کررہی ہے۔ سماج کے ہر طبقہ کے لئے کئی فلاحی اسکیمات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ریاست کی ترقی کے لئے مضبوط بنیاد رکھتے ہوئے کئی ترقیاتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ بی آر ایس منشور پر عمل آوری کی وہ گیارنٹی دیتے ہیں۔ غریب مستحق عوام کو 400 روپے میں گیس سلنڈر، 5 لاکھ روپے کا انشورنس، 15 لاکھ روپے تک مفت علاج، خواتین کو ماہانہ 3000 روپے معاوضہ کے علاوہ دوسری کئی اسکیمات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ن