ll مودی کے دویار مجلس اور کے سی آر، کانگریس کے خلاف کمر بستہ
ll کرناٹک انتخابات کے بعد بی جے پی کی ہوا خارج
ll لاکھوں غریبوں کے دلوں میں میرا مکان ہے
ll عادل آباد اور بودھن میں عوامی جلسہ عام سے راہول گاندھی کا خطاب
عادل آباد۔/25 نومبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نفرت کے بازار میں محبت کی دکان چلانے والے کانگریس پارٹی کے قومی قائد مسٹر راہول گاندھی نے کہا کہ ’’ مودی کے دو یار ایک مجلس اور ایک کے سی آر ہیں ‘‘ جن کے خلاف کانگریس کمر بستہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے مستقر عادل آباد کے پریہ درشنی اسٹیڈیم میں عادل آباد کانگریس امیدوار مسٹر کندی سرینواس ریڈی کے انتخابی جلسہ میں عوام سے مخاطب ہوکر یہ بات بتائی اور کہا کہ کرناٹک انتخابات کے بعد جانکاری کے دوران تلنگانہ ریاست میں بی جے پی کی ہوا خارج ہوچکی ہے اور اب عنقریب منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی بھی ہوا خارج ہوکررہے گی۔ چیف منسٹر مسٹرکے چندر شیکھر راو کو کروڑوں روپئے کے گھوٹالہ میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اب ایک خاندان کی نہیں بلکہ عوامی حکومت کے خواہشمند ہیں۔ مسٹر راہول گاندھی جو بذریعہ ہیلی کاپٹر عادل آباد پہنچے، اپنی نصف گھنٹہ کی تقریر میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا کہ وہ مرکزی حکومت، نریندر مودی کا پارلیمانی اجلاس میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی و دیگر مسائل پر مکمل تعاون کررہے ہیں جبکہ بی جے پی کے اشارہ پر مجلس اتحادالمسلمین ملک کی ریاست آسام، مہاراشٹرا، گجرات اور راجستھان جیسی ریاستوں میں اپنا امیدوار کھڑا کرکے بی جے پی کو کامیابی سے ہمکنار کررہی ہے۔ مجلس، بی آر ایس اور بی جے پی تینوں جماعتیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور ان کا مقصد صرف کانگریس کو ناکام بنانا ہے۔ مسٹر راہول گاندھی نے مسٹر نریندر مودی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں مختلف 24 مقدمات میں الجھائے ہوئے ہیں اور انہیں پارلیمانی رکنیت سے بھی خارج کیا گیا تھا۔ سرکاری مکان سے بھی بیدخل کردیا گیا جس پر مسٹر راہول گاندھی نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک سرکاری مکان سے نکالا گیا جبکہ ملک کے لاکھوں غریبوں کے دل میں میرا مکان موجود ہے۔ مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بے شمار رقم کا تغلب و تصرف کرنے والے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکان سے بیدخل نہیں کیا گیا اور ان کے چیف منسٹری عہدہ سے انہیں نہیں نکالا گیا۔ آئندہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس حکومت قائم ہونے کے بعد اسمبلی کے پہلے اجلاس میں انتخابی منشور جو تلنگانہ عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر جاری کیا گیا ہے اس کو قانونی شکل دے کر عوام کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ تلنگانہ کے عوام کی قربانیوں اور جذبات کا لحاظ رکھتے ہوئے کانگریس کے دور میں تلنگانہ ریاست تشکیل دی گئی تھی تاکہ ریاست قائم ہونے کے بعد ریاست کے غریب عوام کو فائدہ حاصل ہوسکے۔ لیکن ریاست قائم ہونے کے بعد دورا (نوابوں ) کی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ ایس ٹی پلان کے تحت 5,500 ہزار کروڑ روپئے اور ایس سی پلان کے تحت 15 ہزار کروڑ روپئے گھٹالہ کرنے کا مسٹرکے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا۔دھرانی اسکیم کو قائم کرتے ہوئے ریاست کے 20 لاکھ افراد سے اراضی حاصل کرنے کا مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا گیا جبکہ کانگریس اپنے دور میںغریبوں میں اراضی فراہم کرچکی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کو عوام اور دولت مند کے سی آر کے درمیان ایک انصاف کی جنگ قرار دیا۔ ریاستی حکومت کو اراضی، شراب اور ریپ میں ملوث قرار دیا۔ قبل ازیں عادل آباد اسمبلی حلقہ کانگریس امیدوار مسٹر کندی سرینواس ریڈی اور مہاراشٹرا کے سابق وزیر مسٹر انیس احمد بھی عوام سے مخاطب تھے اور کانگریس امیدوار کو کامیاب بنانے عوام سے خواہش کی جبکہ مسٹر راہول گاندھی نے خطاب میں انتخابی منشور سے عوام کو ہونے والے فائدہ سے واقف کرایا۔
بودھن … سابق قومی صدر کانگریس پارٹی راہول گاندھی نے یہاں بودھن میں کانگریس پارٹی کے امیدوار حلقہ اسمبلی بودھن سدرشن ریڈی کے انتخابی جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دس سال سے ریاست تلنگانہ میں ’’ دورا سرکار ‘‘ کی حکومت چل رہی ہے اور اب ریاست تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد عوامی سرکار کا راج ہوگا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ناجائز شراب کی فروخت ، ریت مافیا کا راج اور مبینہ طور پر اراضیات پر قبضہ و خرید و فروخت کرنے والوں کے ہاتھوں میں اقتدار ہے۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ ناجائز کاروبار کرنے والے کے سی آر کے ارکان خاندان کے ہاتھوں سے ریاست تلنگانہ کو آزاد کرواکر ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کانگریس پارٹی کو اقتدار سونپنے کی اپیل کی۔ اس اجلاس سے قومی صدر ملکارجن کھرگے، سابق ریاستی صدر اتم کمار ریڈی، بھٹی وکرامارکا، پونم پربھاکر اور امیدوار بودھن سدرشن ریڈی نے بھی مخاطب کیا۔ اس اجلاس میں صدر ٹاون شیخ محی الدین پاشاہ، غوث الدین ،چیرمین بلدیہ پدما ، ارکان بلدیہ اور ریاستی نائب صدر طاہر بن حمدان، شبیر علی کے علاوہ ضلع نظام آباد کے سینئر قائدین نے بھی شرکت کی۔ سابق ریاستی وزیر مانڈوا وینکٹیشور راؤبی آر ایس قائد نے اپنی پارٹی کو خیربادکرکے کانگریس میں شرکت کی جن کا راہول گاندھی نے پارٹی میں خیرمقدم کیا۔