انتخابی مفاہمت پر الیکشن سے قبل فیصلہ، آندھراپردیش میں کسانوں کے احتجاج میں حصہ لینے کی ہدایت
حیدرآباد۔16۔نومبر (سیاست نیوز) بی جے پی اعلیٰ قیادت نے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں آئندہ انتخابات تک پارٹی کا موقف مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ قومی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے دونوں ریاستوں کے قائدین کو واضح طور پر ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں تیزی پیدا کریں۔ پارٹی نے ریاستوں کے قائدین پر واضح کردیا کہ آئندہ انتخابات میں کسی بھی جماعت سے انتخابی مفاہمت کے بارے میں فیصلہ ہائی کمان کرے گا، اس سلسلہ میں مقامی قائدین کو بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے ۔ انتخابات سے قبل مفاہمت کے بارے میں غور کیا جائے گا ، اس وقت تک دونوں ریاستوں کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں پارٹی کا موقف مستحکم کیا جائے۔ تلنگانہ میں 2023 ء اور آندھراپردیش میں 2024 ء کے عام انتخابات میں بی جے پی بڑی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہتی ہے۔ اعلیٰ قیادت نے تلنگانہ میں پارٹی کے موقف پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ آندھراپردیش کے قائدین کی کارکردگی پر برہمی ظاہر کی ۔ ذرائع کے مطابق امیت شاہ نے گزشتہ دنوں آندھراپردیش کے دورہ کے موقع پر پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس میں ریاست میں پارٹی کے موقف کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ امیت شاہ نے کہا کہ قائدین کو کسانوں کی جانب سے چلائی جارہی امراوتی دارالحکومت کی جدوجہد میں حصہ لینا چاہئے ۔ دارالحکومت کے لئے اراضی حوالے کرنے والے کسان امراوتی کے بجائے تین علحدہ دارالحکومتوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے کسانوں کے حق میں قرار داد منظور کی ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ ریاست کیلئے ایک ہی دارالحکومت ہونا چاہئے۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سنتوش ، ریاستی صدر ایس وی راجو ، ارکان پارلیمنٹ سجنا چودھری ، سی ایم رمیش ، جی وی ایل نرسمہا راؤ ، سابق مرکزی وزیر پورندیشوری ، سابق وزیر کنا لکشمی نارائنا اور دیگر قائدین نے امیت شاہ سے ملاقات کی۔ جگن موہن ریڈی حکومت کے خلاف عوام میں بڑھتی ناراضگی کے پیش نظر بی جے پی قائدین کو متحرک ہونے کی ہدایت دی گئی۔ پارٹی قائدین نے تلگو دیشم یا جنا سینا پارٹی سے انتخابی مفاہمت کی تجویز پیش کی جس پر امیت شاہ نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ ہائی کمان کرے گا۔ ر
