تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کے بغیر تعمیر ممکن نہیں، تلنگانہ کے کئی پراجکٹس متاثر ہوں گے
حیدرآباد: کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ نے تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ سنٹرل واٹر کمیشن کی منظوری کے بغیر آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا آغاز نہ کریں۔ بورڈ کی جانب سے دونوں حکومتوں کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کو روانہ کردہ مکتوب میں کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ نے حکومت سے خواہش کی کہ ایسے پراجکٹس کے تعمیری کام روک دیں جن کی تفیصلی پراجکٹ رپورٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ تلنگانہ کے جن پراجکٹس کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے، ان میں پالمور رنگا ریڈی ، دنڈی ، کلواکرتی ، نیٹم پاڈو اور اے ایم آر لفٹ اریگیشن پراجکٹ شامل ہیں۔ حکومت نے پالمور رنگا ریڈی پراجکٹ کی تعمیر کیلئے 38 کروڑ روپئے صرف کئے ہیں جس کے تحت 7 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا منصوبہ ہے۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں نے ایک دوسرے کے پراجکٹس کے خلاف کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ سے شکایت کی ہے ۔ دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے پر زیادہ پانی کے استعمال کا الزام عائد کیا۔ واٹر مینجمنٹ بورڈ کی مداخلت کے بعد آندھراپردیش میں کئی پراجکٹس کے تعمیری کاموں کو خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ بورڈ نے کہا کہ سنٹرل واٹر کمیشن اور ریور بورڈ دونوں کو پراجکٹس کی تفصیلی رپورٹس روانہ کرنا لازمی ہے ۔ آبپاشی پراجکٹس کے مسئلہ پر دونوں تلگو ریاستوں کا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کرگیا جب آندھراپردیش حکومت نے بورڈ کی ہدایت کے باوجود تعمیری کاموں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اپیکس کونسل کے اجلاس میں دونوں ریاستوں نے پراجکٹ رپورٹ کے بغیر شروع کردہ کاموں کو روکنے سے اتفاق کیا تھا۔