پراجکٹس کے خلاف مرکز سے شکایت، مرکز نے پراجکٹس کی رپورٹ طلب کی
حیدرآباد۔ آندھرا پردیش کی تقسیم اور نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے دونوں تلگو ریاستوں میں آبپاشی پراجکٹس اور دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر تنازعات جاری ہیں۔ حالیہ عرصہ میں دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے کے آبپاشی پراجکٹس کے خلاف مرکز سے نمائندگی کی ہے۔ سنٹرل واٹر کمیشن، کرشنا و گوداوری واٹر ریگولیشن اتھاریٹیز نے بھی دونوں ریاستوں کو پراجکٹس کے سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مرکزی حکومت نے دونوں ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ آبی تنازعات کی باہمی اتفاق رائے سے یکسوئی کی کوشش کریں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس کے درمیان تنازعات کی یکسوئی کیلئے چار مرتبہ ملاقات ہوچکی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ تازہ ترین آبی تنازعہ کے سلسلہ میں عنقریب دونوں چیف منسٹرس کا اجلاس منعقد ہوگا۔ دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کے پراجکٹس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مرکز کو شکایت کی تھی جس کے بعد سے تنازعہ نے شدت اختیار کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے چندر شیکھر راؤ اور وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ملاقات کے سلسلہ میں عہدیداروں کی جانب سے مساعی جاری ہے۔ دونوں ریاستوں کو اس بات کا احساس ہے کہ مرکزی اداروں کو تنازعہ میں شامل کئے بغیر آبی تنازعات کا خوشگوار حل تلاش کیا جائے تاکہ دونوں ریاستوں کے عوام کی بھلائی ہوسکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آبی تنازعہ کے سنگین رُخ اختیار کرنے کی صورت میں دونوں ریاستوں کو پینے کے پانی اور آبپاشی کی سہولتوں کے سلسلہ میں سربراہی آب کا مسئلہ دشوار کن ہوسکتا ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تنظیم جدید قانون کے قواعد کے مطابق ملازمین اور اثاثہ جات کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان کرشنا کے پانی کے مسئلہ پر6 برسوں سے تنازعہ جاری ہے۔ اپوزیشن نے دونوں حکومتوں پر تنازعہ کا مستقل حل تلاش کرنے میں غیر سنجیدہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے حال ہی میں مرکزی وزیر آبی وسائل کو 18 صفحات پر مشتمل مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ انہوں نے نئے پراجکٹس کی تعمیر کو تلنگانہ کا جائز حق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ تلنگانہ نے آندھرا پردیش کے پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ پر اعتراض جتایا ہے جبکہ آندھرا پردیش نے کالیشورم اور پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ پر اعتراضات کئے ہیں۔