!تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اپوزیشن قائدین اور اہم شخصیتوں کی جاسوسی

   

اسرائیل سے ٹکنالوجی کا حصول، پولیس عہدیداروں کے متواتر دورہ اسرائیل سے شبہات میں اضافہ، پروفیسر ہرگوپال پر نگرانی

حیدرآباد۔/27 جولائی، ( سیاست نیوز) اسرائیلی ٹکنالوجی پیگاسیس کے ذریعہ ملک میں اپوزیشن قائدین اور اہم شخصیتوں کی جاسوسی کا تنازعہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر کرچکاہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے جاسوسی کے مسئلہ پر نریندر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم سے جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی سطح پر جاسوسی کا یہ معاملہ ابھی عروج پر ہے کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اہم شخصیتوں کی جاسوسی کے شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے پولیس عہدیداروں نے متواتر اسرائیل کا دورہ کیا اور جاسوسی سے متعلق سافٹ ویر حاصل کیا گیا۔ اسرائیل کے جس ادارہ نے مرکز کی تحقیقاتی ایجنسیوں کو یہ سافٹ ویر فراہم کیا ہے اسی ادارہ کے ذریعہ دونوں تلگو ریاستوں کی حکومتوں نے سیاسی اور دیگر اہم شخصیتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا کام شروع کیا ہے جس کے تحت ان کے ٹیلی فون ٹیاپ کئے جارہے ہیں۔ اس ٹکنالوجی کے تحت کسی تحقیقاتی ایجنسی یا سرکاری ادارہ سے متعلقہ شخص کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوتا ہے اور کال کے ریسیو کرتے ہی فون میں سافٹ ویر از خود ڈاؤن لوڈ ہوجاتا ہے جس کے ساتھ ہی ٹیلی فون ٹیاپنگ اوردیگر سرگرمیوں پر باآسانی نظر رکھی جاتی ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی جن اہم شخصیتوں پر حکومت نے نگرانی شروع کی ہے ان میں ریاستی وزراء ، اپوزیشن قائدین، جہدکار اور بعض ایڈیٹرس اور صحافی شامل بتائے گئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں دونوں ریاستوں کے پولیس عہدیداروں نے اسرائیل کا کئی بار دورہ کیا اور اسرائیل کی ہوم لینڈ سیکوریٹی ادارہ سے رہنمائی حاصل کی۔ تلگو ریاستوں کی پولیس اگرچہ جاسوسی سافٹ ویر پیگاسیس کی خریدی سے انکار کررہی ہے لیکن حالیہ عرصہ میں پولیس کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے جاسوسی کے شبہات نے شدت اختیارکرلی ہے۔ شہری حقوق کے نامور جہد کار پروفیسر ہرگوپال نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا فون نمبر پیگاسیس جاسوسی سافٹ ویر کے تحت ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے ایک وکیل نے بھی ان کے واٹس ایپ کو ہیک کرنے کی شکایت کی ہے۔ مذکورہ وکیل زیادہ تر جہد کاروں کے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں۔ 2010 اور 2018 کے درمیان تلگو ریاستوں کے آئی پی ایس عہدیداروں نے جن کا تعلق مخالف دہشت گرد شعبہ، کاؤنٹر انٹلیجنس، مخالف ماویسٹ شعبہ اور اسپیشل برانچ سے ہے انہوں نے داخلی سیکوریٹی کے مسئلہ پر اسرائیل کی مختلف کمپنیوں سے مشاورت کی ۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست کی تقسیم کے بعد پولیس عہدیدار اسرائیلی ایجنسیوں سے مسلسل ربط میں ہیں۔ پروفیسر ہرگوپال نے کہا کہ وہ پروفیسر جی ایم سائی بابا کی رہائی کیلئے قائم کردہ کمیٹی کے صدرنشین تھے۔ کمیٹی نے مختلف عوارض کا شکار سائی بابا کی رہائی کیلئے مساعی کی۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے ان سے ربط قائم کیا جس کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ان کا فون نمبر پیگاسیس سافٹ ویر کے تحت نگرانی میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جہد کاروں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل رویندر ناتھ کے واٹس ایپ کو ہائیک کیا گیا۔ قومی سطح پر جاسوسی مسئلہ پر جاری احتجاج کے دوران تلگوریاستوں میں اہم شخصیتوں کی جاسوسی سے متعلق معاملہ تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر اپوزیشن قائدین کے علاوہ خود اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کی جاسوسی کررہے ہیں۔