تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ججس کی قلت کا سامنا

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔ 29 جولائی ( سیاست نیو ز) دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو ججس کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ریاست کی عدالتوں بشمول ہائیکورٹس میں جملہ 126 ججس کی کمی پائی جاتی ہے ۔ ان میں 28 ججس کی ہائیکورٹس میں قلت ہے ۔ حالانکہ تلنگانہ ہائیکورٹ میں جملہ ججس کی تعداد 42 ہونی چاہئے لیکن یہاں صرف 14 ججس کام کر رہے ہیں۔ ان میں دو خاتون ججس اور مابقی مرد ججس ہیں ۔ گذشتہ دو برسوں میں چار تقررات عمل میں لائے گئے ہیں۔ تلنگانہ میں ججس کی جملہ گنجائش 2018 میں 493 سے گھٹا کر 2021 میں 474 ہوگئی ہے ۔ یہ تفصیل مرکزی وزیر کرن رجیجو نے لوک سبھا میں پیش کی ۔ اسی طرح آندھرا پردیش ہائیکورٹ میں بھی جملہ 18 عہدے مخلوعہ ہیں جبکہ ریاست کی دوسری عدالتوں میں 113 تقررات کئے جانے باقی ہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران آندھرا پردیش ہائیکورٹ میں جملہ 9 ججس کے تقررات کئے گئے ہیں۔ فی الحال آندھرا پردیش ہائیکورٹ میں 19 ججس ہیں۔ ان میں 16 مرد اور تین خاتون ججس ہیں۔ ریاست کی دوسری عدالتوں میں جملہ 494 ججس برسر خدمت ہیں۔ آندھرا پردیش میں جملہ 607 ججس کی گنجائش ہے ۔ اس تعداد میں 2018 کے بعد اضافہ ہوا ہے جو 2018 میں 494 تھی ۔اگر ملک بھر کا جائزہ لیا جائے تو ججس کی جملہ 454 جائیدادیں تقرر طلب ہیں۔ ان میں آٹھ جائیدادیں سپریم کورٹ میں ہیں جن پر تقررات عمل میں لائے جانے ہیں۔