تلنگانہ میں 16 اور آندھرا پردیش میں 12 انڈر گراؤنڈ قائدین، مرکز کے سخت موقف کے باعث سرنڈر کا رجحان
حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے ملک میں ماوسٹ سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لئے جاری مہم نے تلنگانہ میں ماوسٹ سرگرمیوں کو برائے نام کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مرکز کی کارروائیوں کے آغاز کے بعد تلنگانہ میں روپوش ماوسٹ قائدین اور کارکنوں کی تعداد 54 ریکارڈ کی گئی تھی لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ریاست بھر میں محض 16 انڈر گراؤنڈ ماوسٹ قائدین باقی رہ چکے ہیں۔ آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، اڈیشہ اور تلنگانہ میں نیم فوجی دستوں نے انکاؤنٹرس میں کئی سرکردہ ماوسٹ قائدین کو ہلاک کردیا ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں ماوسٹوں نے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں ہتھیار ڈال دیئے۔ تلنگانہ میں گزشتہ 10 برسوں میں ماوسٹ سرگرمیوں میں انحطاط دیکھا گیا۔ علیحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ ماوسٹ دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے لیکن بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ماوسٹ تنظیموں کے ساتھ حکومت کے سخت رویہ کے باعث ماوسٹوں کو سرگرمیاں رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ ماوسٹوں سے قربت رکھنے والے افراد اور مخبروں کی مدد سے انٹلی جنس اور پولیس میں جو اعداد و شمار اکٹھا کئے ہیں ان کے مطابق محض 16 ماوسٹ انڈر گراؤنڈ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی سرکردہ ماوسٹ لیڈرس جن کے نام روپوش فہرست میں شامل تھے ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ماوسٹ تحریک سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کسی اور ریاست کا رخ کرلیا ہے یا پھر پولیس انکاؤنٹر میں موت واقع ہوئی۔ نریندر مودی حکومت نے جاریہ سال مارچ تک ملک سے ماوسٹ تحریک کے خاتمہ کا عہد کیا ہے اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے ماوسٹ تنظیموں سے مذاکرات کی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی ماوسٹ سرگرمیوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ دونوں ریاستوں میں ایک بھی ضلع یا منڈل ایسا نہیں ہے جسے ماوسٹ سرگرمیوں سے متاثرہ قرار دیا جائے۔ آندھرا پردیش حکومت کو 12 انڈر گراؤنڈ ماوسٹ قائدین کی تلاش ہے لیکن ان کے زندہ ہونے کے بارے میں وثوق کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا۔ ماوسٹ سرگرمیوں میں کمی کے بعد سیاسی قائدین بے خوف و خطر دیہی علاقوں میں دورے کررہے ہیں۔ 1