تلنگانہ اور اے پی میں 50 فیصد سے زائد نمونوں میں ڈیلٹا ویرئینٹ کی نشاندہی

   

’ویرئینٹ آف کنسرن‘ کی موجودگی کوویڈ کیسیس کی لہر کا سبب

حیدرآباد : تلنگانہ اور آندھراپردیش ملک کی ان آٹھ ریاستوں میں شامل ہیں جہاں ٹسٹ کئے گئے50 فیصد سے زیادہ نمونوں میں ڈیلٹا ویرئینٹ پایا گیا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی ڈیلٹا ویرینٹس سے متعلق ریاست واری تحقیقات میں پتہ چلا کہ ان وئیرنٹس کیلئے ہندوستان میں 21,109 نمونے پازیٹیو پائے گئے۔ INSACOG سے 28 لیباریٹریز کی جانب سے تاحال تقریباً 45,000 نمونوں کے معائنے کئے گئے جس میں 21,109 میں ڈیلٹا ویرئینٹ پایا گیا۔ تلنگانہ میں 1,127 نمونوں میں ویرئینٹ آف کنسرن پایا گیا اور 293 نمونوں میں الفا ویرئنٹ ظاہر ہوا۔ 94 میں بیٹاویرئینٹ اور 740 نمونوں میں ڈیلٹاویرئینٹ ظاہر ہوا۔ آندھراپردیش میں 829 نمونوں میں ویرئینٹس آف کنسرن پائے گئے جس میں 80 نمونوں میں الفاویریئنٹ ظاہر ہوا۔ 7 میں بیٹاویریئنٹ اور 742 میں ڈیلٹاویرینٹ ظاہر ہوا۔ ڈاکٹر سرجیت کمار سنگھ ڈائرکٹر نیشنل سنٹر فار ڈیسیز کنٹرول (NCDC) نے کہا کہ 8 ریاستوں کے 50 فیصد لوگوں میں ڈیلٹا ویریئنٹ پایا گیا۔ 17 جون تک ملک کی چار ریاستوں میں 35 اضلاع میں لوگوں کے ڈیلٹاویرینٹ سے متاثر ہونے کی اطلاع ہے۔ مہاراشٹرا، دہلی، پنجاب، تلنگانہ، مغربی بنگال اور گجرات کے اضلاع سے زیادہ تعداد میں لوگوں کے اس سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔