تلنگانہ اور اے پی کے خانگی میڈیکل کالجس پر ای ڈی کے دھاوے

   

منی لانڈرنگ کے الزامات پر 10 ریاستوں میں یکساں کارروائی
حیدرآباد ۔ 28۔نومبر (سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے تلنگانہ ، آندھراپردیش اور دیگر 8 ریاستوں میں خانگی میڈیکل کالجس میں دھاوے کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل داخلوں میں بے قاعدگیوں کے الزامات کی جانچ کی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے نیشنل میڈیکل کمیشن کے اجازت نامہ کے تحت داخلوں کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی میڈیکل کالجس بھاری فیس حاصل کرنے کیلئے منی لانڈرنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ ، آندھراپردیش ، مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ، گجرات ، راجستھان ، بہار ، اترپردیش اور دہلی میں 15 مقامات پر دھاوے کئے گئے۔ 7 میڈیکل کالجس اور باقی خانگی مقامات پر تلاشی مہم کے ذریعہ اہم دستاویزات ضبط کئے گئے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے 30 جون کو سی بی آئی کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ ایف آئی آر میں شکایت کی گئی کہ میڈیکل کالجس کے معائنے اور اجازت کے سلسلہ میں درمیانی افراد کے ذریعہ سرکاری عہدیداروں بشمول نیشنل میڈیکل کمیشن کے عہدیداروں کو رقومات ادا کی گئیں۔ کورسس میں داخلہ کے سلسلہ میں قواعد کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے ۔ ورنگل میں فادر کولمبو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس اور حیدرآباد میں درمیانی فرد ڈاکٹر رام بابو کے دفتر پر دھاوا کیا گیا۔ نیشنل میڈیکل کمیشن سے رعایتیں حاصل کرنے کیلئے بھاری رقومات ادا کی گئیں۔ وشاکھا پٹنم میں گیاتری میڈیکل کالج میں بھی دھاوے کئے گئے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے تحقیقات کے دوران 36 ملزمین کی نشاندہی کی جن میں سے 6 کا تعلق تلنگانہ اور آندھراپردیش سے بتایا جاتا ہے۔1