تلنگانہ اور دیگر 4 ریاستوں میں کانگریس کا اقتدار یقینی، کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس کا اختتام

   

بی جے پی کو مرکز سے بیدخل کرنا اولین ترجیح، عوام تبدیلی کے حق میں، کمزور طبقات اور اقلیتوں کا تحفظ ضروری، صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کا خطاب

حیدرآباد۔/17 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس ورکنگ کمیٹی نے یقین ظاہر کیا کہ 5 ریاستوں کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں تلنگانہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور میزورم میں عوام کانگریس کو واضح اکثریت سے کامیاب کریں گے۔ ورکنگ کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر بیان جاری کیا گیا جس میں مجوزہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو پانچ ریاستوں میں بھی شاندار کامیابی حاصل ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی آئندہ سال اپریل۔ مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کا سامنا کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ کانگریس پارٹی آئندہ لڑائی کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ پارٹی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم لاء اینڈ آرڈر، فرد کی آزادی، سماجی، معاشی انصاف اور مساوات سے متعلق عوام کی توقعات کو پورا کریں گے۔ اسی دوران صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے ورکنگ کمیٹی کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے پارٹی کی کامیابی کو اولین ترجیح دیں۔ کھرگے نے کہا کہ ملک کے عوام کو متبادل کی تلاش ہے اور کانگریس پارٹی کو بی جے پی کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کرناٹک اور ہماچل پردیش میں عوام نے اس کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ورکنگ کمیٹی کے توسیعی اجلاس میں ریاستوں کے پردیش کانگریس صدور، سی ایل پی لیڈرس، ارکان پارلیمنٹ اور سینئر قائدین نے شرکت کی۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ قائدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے انفرادی مفادات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اور کانگریس کی کامیابی ہر کسی کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں تنظیمی سطح پر اتحاد اہمیت کا حامل ہے۔ اتحاد اور ڈسپلن کے ذریعہ ہی مخالف پارٹیوں کو شکست دی جاسکتی ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ بی جے پی کو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں شکست دے کر مہاتما گاندھی کو حقیقی معنوں میں خراج پیش کیا جاسکتا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ وقت ہمارے لئے آرام کا نہیں ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں بی جے پی اقتدار کے دوران عام آدمی کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ غریبوں، کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور مزدوروں کے مسائل کے حل میں نریندر مودی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے صدر کانگریس مقرر ہونے کے 100 سال 2024 میں مکمل ہوجائیں گے اور ایسے میں بی جے پی کو شکست دے کر مہاتما گاندھی کو خراج پیش کیا جاسکتا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے دستور اور جمہوریت کی بنیاد رکھی ہے لہذا اس کے تحفظ کی ذمہ داری بھی کانگریس پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بی جے پی سے آخری سانس تک جدوجہد کیلئے تیار رہنا پڑے گا۔ کانگریس صدر جن کی قیادت میں پارٹی نے حال ہی میں دو ریاستوں میں کامیابی حاصل کی پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ بنیادی مسائل کو اٹھاتے ہوئے بی جے پی کی مخالف عوام پالیسیوں کو بے نقاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنا مہاتما گاندھی کو حقیقی معنوں میں خراج ہوگا۔ ورکنگ کمیٹی کے توسیعی اجلاس میں 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور آئندہ سال لوک سبھا انتخابات کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ صدر کانگریس نے کہا کہ پارٹی قائدین کو دن رات کام کرنا چاہیئے اور انہیں عوام سے ہمیشہ ربط میں رہتے ہوئے پارٹی اور ملک کے خلاف پروپگنڈہ کا موثر جواب دینا چاہیئے۔ ملک تبدیلی چاہتا ہے جس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کرناٹک اور ہماچل پردیش میں کامیابی اس کا ثبوت ہے۔ یہ وقت نہیں ہے کہ ہم خاموش بیٹھ جائیں بلکہ ہمیں دن رات کام کرنا ہوگا۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ملک کانگریس ورکنگ کمیٹی کے قیام کا منتظر ہے۔ گذشتہ 138 برسوں میں کانگریس نے کئی چیالنجس کا سامنا کیا۔ ہم مستقبل کے چیالنجس سے بھی واقف ہیں جو ہندوستانی جمہوریت کو چیلنج ہے۔ ہمیں دستور کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، خواتین، اقلیتوں اور غریبوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران 20 ریاستوں کے اہم قائدین نے راہول گاندھی کے ساتھ اجلاس میں حکمت عملی تیار کی ہے۔ پرینکا گاندھی الیکشن والی ریاستوں میں ریالیوں سے خطاب کررہی ہیں اور کانگریس کے حق میں بہتر ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کئی عروج اور زوال دیکھے ہیں لیکن ہمیں حوصلہ شکن ہوئے بغیر ڈسپلن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہم ستائش یا تعریف کیلئے کام کرنے کے بجائے پارٹی کے استحکام پر توجہ دیں۔