حکومت کے اعداد و شمار میں کوئی اضافہ نہیں ، سرکاری و خانگی دواخانے مریضوں سے پر
حیدرآباد۔25نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اور شہر حیدرآباد میں کورونا وائر س کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے لیکن سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مریضوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہے ۔ خانگی دواخانوں کے علاوہ محلہ جات میں موجود ڈاکٹرس کے دواخانوں سے سردی ‘ زکام‘ کھانسی اور نزلہ کے علاوہ نمونیا کی شکایات کے ساتھ پہنچنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور ان کے کورونا وائرس کا معائنہ کروائے جانے کی صورت میں وہ پازیٹیو ریکارڈ کئے جا رہے ہیںلیکن ان کا شمار سرکاری بلیٹن میں نہیں کیا جا رہاہے۔ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک بھر میں دسہرہ اور دیوالی کے تہوار کے بعد کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود کوئی سنگین صورتحال پیدا نہیں ہوگی بلکہ نومبر اور ڈسمبر میں شروع ہونے والی امکانی لہر سے نمٹنے کے لئے بہتر اقدامات کئے جانے لگے تھے ۔ دونوں شہروں کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے دیگر اضلاع بالخصوص کھمم کے طلبہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے لگے ہیں ۔ گذشتہ یوم ضلع پریشد اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے 10طلبہ کے کورونا وائرس سے متاثرپائے جانے کے بعد دیگر طلبہ کے معائنوں کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ میں مزید 6طلبہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔دونو ںشہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں موجود خانگی و کارپوریٹ دواخانوں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کلینکس میں بھی مریضوں کی تعداد میں اضا فہ دیکھا جا رہاہے ۔ کورونا وائرس کے مریضوں کے آزادانہ گھومنے کے نتیجہ میں وائرس کے پھیلنے کے خدشات کے سلسلہ میں ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ ٹیکہ اندازی کا عمل بہتر ہونے کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ میں اس رفتار سے اضافہ نہیں دیکھا جا رہا جس رفتار سے پہلی اور دوسری لہر کے دوران دیکھا گیا تھا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں جن لوگوں نے ٹیکہ لیا ہوا ہے انہیں کسی بھی طرح کی سنگین صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا ہے جبکہ ٹیکہ نہ لینے والے شہریوں کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں شریک دواخانہ ہونا پڑرہا ہے اور انہیں سانس لینے میں تکلیف اور دیگر شکایات کا سامنا ہے۔گاندھی ہاسپٹل کے ذرائع کے مطابق گاندھی ہاسپٹل میں بھی کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور ان مریضوں میں 40 فیصد سے زیادہ مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔م