تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک باعث تشویش، ویمولہ کی ماں کی بھٹی وکرامارکا سے ملاقات
حیدرآباد۔ 18 جنوری (سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ اور کرناٹک کی کانگریس حکومتیں جلد ہی روہت ویمولا قانون بنائیں گی تاکہ سماج میں دلتوں اور کمزور طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کیا جاسکے۔ روہت ویمولا جو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے ریسرچ اسکالر اور دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے تھے انہوں نے 2016 میں امتیازی سلوک سے عاجز آکر خودکشی کرلی تھی۔ خودکشی کے خلاف ملک بھر میں طلبہ تنظیموں اور جہد کاروں نے احتجاج منظم کیا تھا۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں طبقاتی جانبداری کے خلاف راہول گاندھی نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی رائے ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ روہت ویمولہ قانون صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک اور جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس قانون کے ذریعہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی گنجائش رہے گی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ روہت ویمولا کی خودکشی کے ایک دہے بعد بھی ملک میں طبقاتی جانبداری برقرار ہے۔ راہول گاندھی نے قومی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کانگریس زیر قیادت ریاستوں میں جلد ہی قانون سازی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ راہول گاندھی نے تقریباً 9 ماہ قبل تلنگانہ اور کرناٹک کے چیف منسٹرس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے روہت ویمولا قانون وضع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ راہول گاندھی کے اپریل 2025 میں روانہ کردہ مکتوب کے بعد کرناٹک کی کانگریس حکومت نے قانون سازی کے سلسلہ میں مساعی شروع کی ہے۔ تاہم تلنگانہ حکومت کی جانب سے ابھی تک قانون کا مسودہ تیار نہیں کیا گیا۔ توقع ہے کہ کرناٹک میں آئندہ اسمبلی سیشن میں بل کو منظوری دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بل کی تیاری کے سلسلہ میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے کرناٹک کے بل کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے روہت ویمولا تحریک کمیٹی سے ملاقات کی۔ روہت ویمولہ کی والدہ رادھیکا ویمولہ اور دوسرے اس موقع پر موجود تھے۔ بھٹی وکرامارکا نے تیقن دیا کہ تلنگانہ میں جلد ہی روہت ویمولہ قانون اسمبلی میں منظور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لئے حکومت جامع قانون کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ 1