عہدیداروں سے ایک دوسرے کے رازوں کا انکشاف، دو عہدیدار اعلیٰ عہدیداروں کو خوش کرنے میں ماہر
حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ اردواکیڈیمی میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے ذریعہ حاصل کی گئی دولت کی اپنے حصہ کی تقسیم کے معاملہ میں عہدیداروں کے درمیان رسہ کشی شروع ہوچکی ہے اور زائد از 3دہائیوں سے ایک ہی عہدہ پر خدمات انجام دیتے ہوئے غیر مجاز طریقہ سے ترقی حاصل کرنے والے عہدیدار اب ایک دوسرے کے راز اگلنے لگے ہیں۔ تلنگانہ اردو اکیڈیمی میں چلائی جانے والی اسکیمات سے استفادہ کنندگان کی تعداد سال 2025-26 کے دوران مجموعی اعتبار سے 3977 ہے اور ان استفادہ کنندگان پر اردواکیڈیمی میں 2کروڑ روپئے سے زائد کی رقم خرچ کی ہے۔ اکیڈیمی کو حاصل ہونے والے بجٹ کے اخراجات کے سلسلہ میں محکمہ کو جو رپورٹ روانہ کی گئی ہے اس میں اکیڈیمی کے عہدیداروں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ کے 108 اردو اسکولوں کو انفراسٹرکچر کے لئے 54 لاکھ روپئے جاری کئے گئے ہیں جبکہ تختہ ٔ حساب میں درج تفصیلات کے مطابق اس ایک سال کے دوران اردواکیڈیمی نے مجموعی اعتبار سے 17لاکھ 40 ہزار روپئے کے اشتہارات جاری کئے ہیں اور 9سرکردہ اخبارات کو جاری کئے گئے اشتہارات پر 17 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ہیںاس کے علاوہ چھوٹے اخبارات کو مالی اعانت کے نام پر 207 چھوٹے اخبارات کو اردواکیڈیمی کے ذریعہ 31لاکھ 5ہزار روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔اردواکیڈیمی کے گذشتہ 10 برسوں کے اگربجٹ کی آڈٹ کروائی جائے تو کئی طرح کی دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوگا جو کہ تلنگانہ میں ’اردوکی ترقی‘ کے نام پر انجام دی گئی ہیں۔ اردو اکیڈیمی کے بجٹ کا جس انداز میں استعمال کیا جا رہاہے اگر اس کی تفصیلات کو منظر عام پر لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میںیہ بات ثابت ہوگی کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی میں موجود عہدیدارخود اس ادارہ کے لئے ’’دیمک‘‘ بنے ہوئے ہیں اور ادارہ کو نہ صرف کھوکلا کر رہے ہیں بلکہ ادارہ کے بجٹ کو ’’مرحوم‘‘ ملازمین کے بینک کھاتوں کے علاوہ دیگر عملہ کے بینک کھاتوں کے ذریعہ اپنے استعمال میں لارہے ہیں۔ ریاست کی تقسیم اور قیام تلنگانہ کے بعد بیشتر تمام محکمہ جات اور اداروں میں عہدیداروں کی تقسیم اور تبادلے ہوئے لیکن تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے اکاؤنٹنٹ اور سپرٹنڈنٹ کے عہدہ پر موجود دونوں ہی ملازمین کا نہ ہی تبادلہ کیاگیا اور نہ ہی ان کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی بلکہ وہ اپنے ہی عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ملک بھر میں کسی بھی محکمہ یا ادارہ میں جسے سرکاری بجٹ بطور گرانٹ حاصل ہوتا ہو ان میں خدمات انجام دینے والوں کا بھی تبادلہ کیا جاتا ہے تاکہ ادارہ میں شفافیت کو برقرار رکھا جاسکے لیکن تلنگانہ اردو اکیڈیمی میں ’چاپلوسی ‘ اور اپنے فن کے مظاہرہ کے ذریعہ دو ملازمین ایک ہی شعبہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے وظیفہ پر سبکدوشی کے قریب پہنچ چکے ہیں لیکن ان ملازمین کو ان شعبہ جات سے ہٹانے یا تبادلہ کرنے کی کسی بھی عہدیدار نے جرأ ت نہیں کی کیونکہ وہ نہ صرف اپنے اعلیٰ عہدیدار کو ’’خوش‘‘ رکھنے کے فن سے واقف ہیں بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے اعلیٰ عہدیداروں کی بھی ضروریات پوری کرنے کے ہنر سے واقف ہیں اسی لئے ان کے خلاف بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کے باوجود نہ کوئی کاروائی ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے تبادلوں کے سلسلہ میں کوئی احکامات جاری کئے جاتے ہیں۔سلسلہ جاری۔۔۔3