ہر ماہ 10 دن تک انتظار، 500 نئی بسوں کے اضافہ کا مطالبہ
حیدرآباد: تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین نے تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر کے طریقہ کار کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے عین قبل ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہ کے بقایہ جات ادا کئے گئے تھے جس کے بعد ملازمین کو امید تھی کہ آئندہ بھی تنخواہ بروقت ادا کردی جائے گی ۔ انہیں اس وقت مایوسی ہوئی جب کارپوریشن نے تقریباً 10 دن تک تنخواہ کی اجرائی کو روک دیا۔ انتخابات سے قبل کارپوریشن نے کریڈٹ کوآپریٹیو سوسائٹی کو 200 کروڑ جاری کئے تھے جبکہ 900 کروڑ کی ادائیگی باقی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ سوائے نومبر کے کسی بھی ماہ تنخواہ بروقت جاری نہیں کی گئی۔ ستمبر کی تنخواہ 10 اکتوبرکو ادا کی گئی جبکہ اگست کی تنخواہ 9 ستمبر کو جاری ہوئی۔ ملازمین نے بتایا کہ نومبر کی تنخواہ 10 ڈسمبر کو جاری کی گئی۔ اس طرح کم از کم 10 دن کی تاخیر کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں ملازمین کو دشواریوں کا سامنا ہے ۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مستقل مینجنگ ڈائرکٹر کے تقرر میں تاخیر کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ گزشتہ دو برسوں سے مینجنگ ڈائرکٹر کا عہدہ خالی ہے ۔
