تلنگانہ بجٹ کا جائزہ لینے کانگریس کی 11 کمیٹیوں کی تشکیل

   

پی سی سی صدر اور سی ایل پی لیڈر کو رپورٹ پیش کی جائے گی، حکومت پر وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا الزام

حیدرآباد ۔ 11 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے بجٹ برائے سال 2019-20 ء کا رتفصیلی جائزہ لینے کے لئے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے 11 مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ یہ کمیٹیاں بجٹ کا جائزہ لیتے ہوئے صدرپردیش کانگریس اور سی ایل پی لیڈر کو اپنی رپورٹ پیش کریں گی تاکہ اسمبلی میں مذکورہ محکمہ جات کے مسائل کو پیش کیا جاسکے ۔ مختلف محکمہ جات کے بجٹ کا جائزہ لینے کے لئے علحدہ علحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ نائب صدر پردیش کانگریس ملو روی نے کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کیا۔ عام بجٹ اور فینانس سے متعلق منظوریوں کا جائزہ لینے کیلئے جی نرنجن کی کنوینرشپ میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں بی کملاکر راؤ اور اے شام موہن شامل ہیں۔ بی سی ویلفیر اور اس سے متعلق مسائل کے لئے کمیٹی کے کنوینر بی مہیش کمار گوڑ ہوں گے ۔ شریمتی اندرا شوبھن کو زراعت اور اس سے مربوط مسائل کی کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا۔ بی جنک پرساد ٹریڈ یونین اور لیبر مسائل کی کمیٹی کے ذمہ دار ہوں گے ۔ تعلیم ، بیروزگاری اور نوجوانوں کے مسائل سے متعلق بجٹ کا جائزہ لینے کیلئے کے مانوتا رائے کی قیادت میں کمیٹی قائم کی گئی۔ بلدی انتخابات کیلئے شریمتی سنیتا راؤ ، بہبودیٔ خواتین و اطفال کے لئے شریمتی بی سندھیا ریڈی ، ایس سی سب پلان اور بھلائی سے متعلق بجٹ کی کمیٹی کے کنوینر اے دیاکر ہوں گے ۔ اقلیتی بہبود کیلئے نظام الدین کو کنوینر مقرر کیا گیا جبکہ ایم اے فہیم کنوینر ہوں گے ۔ ایس ٹی بجٹ اور تحفظات سے متعلق امور کے لئے بی نائک کی کنوینرشپ میں کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ بجٹ کا مجموعی طور پر جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ کمیٹی کے کنوینر سی ایچ کرن کمار ریڈی ہیں۔ کمیٹیوں کے کنوینرس سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ کوآرڈینیٹر سے ربط قائم کرتے ہوئے مختلف مسائل کی شمولیت یا ارکان کی شمولیت کے بارے میں تجاویز پیش کریں۔ الاٹ کردہ محکمہ جات پر نوٹ تیار کرتے ہوئے صدرپردیش کانگریس اور سی ایل پی لیڈر کو پیش کیا جائے گا ۔ اسی دوران ڈاکٹر ملو روی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بجٹ میں کسانوں ، پسماندہ طبقات ، ایس سی ، اقلیتی طبقات اور بیروزگاروں کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کسانوں کے قرض معافی اور رعیتو بندھوں اسکیم کا کوئی ذکر شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر تاریخ کے وہ پہلے چیف منسٹر ہیں جنہوں نے بہبود سے متعلق بجٹ میں کمی کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کے سی آر اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور دیگر مسائل پر مرکز کی تائید کرنے والے کے سی آر اب کیوں مرکز کو نشانہ بنارہے ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے دوران طلبہ سے کئی وعدے کئے گئے تھے لیکن ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر نے وعدوںکو فراموش کردیا۔