تلنگانہ بند کامیاب، عوام نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا

   

پردیش کانگریس کے خازن نارائن ریڈی کا دعویٰ، پولیس کے ذریعہ ناکام بنانے کی کوشش
حیدرآباد۔/19 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے خازن جی نارائن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پولیس کا استعمال کرتے ہوئے تلنگانہ بند کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور سرکاری مشنری کے استعمال کے باوجود بند کامیاب رہا اور عوام کے تمام طبقات نے آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کی تائید کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نارائن ریڈی نے کہا کہ عوام کی جانب سے رضاکارانہ طور پر بند میں حصہ لینے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے ناراضگی کا ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین کو مکانات پر محروس رکھا گیا اور احتجاج کی کوشش پر گرفتار کیا گیا جس کی کانگریس پارٹی مذمت کرتی ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے ملازمین سے بات چیت کی ہدایت کے باوجود حکومت نے عدالتی احکامات کی توہین کی ہے۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کابینہ میں وزراء کو آزادی نہیں ہے اور وہ آزادی کے ساتھ کام کرنے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کو ماننے سے انکار پر کے سی آر کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بند کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے سبب عوام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ۔اس صورتحال کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر اپنی آمرانہ روش ترک نہ کریں تو عوام انہیں سبق سکھائیں گے۔ غیر تجربہ کار ڈرائیورس کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی زندگی کو خطرہ میں ڈال دیا گیا۔ کے سی آر کو ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی دشواریوں کے سلسلہ میں گورنر سے وضاحت کرنی چاہیئے۔ آر ٹی سی کے لئے مستقل منیجنگ ڈائرکٹر کا تقرر نہیں کیا گیا کیونکہ چیف منسٹر آر ٹی سی کے اثاثہ جات کو اپنے قریبی افراد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ نارائن ریڈی نے حضور نگر میں کانگریس کی کامیابی کو یقینی قرار دیا۔ شکست کے خوف سے کے سی آر نے حضور نگر کا دورہ منسوخ کردیا۔