تلنگانہ بھر میں ایک بار پھر بارش کی تباہ کاریاں۔ 5 افراد ہلاک

,

   

کئی مقامات پر سڑکیں بہہ گئیں ۔ کھڑی فصلوں کو نقصان ۔ کئی پراجیکٹس کے دروازے کھول دئے گئے ۔ کئی گاؤں سے رابطے منقطع

حیدرآباد 30 اگسٹ (سیاست نیوز) ریاست میں گزشتہ ایک ہفتے سے ہونے والی بارش کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصانات ہوئے۔ مختلف مقامات پر 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ کئی مقامات پر سڑکیں بہہ گئیں۔ کئی مقامات پر گاؤں کا عام زندگی سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ ریاست کے بیشتر پراجکٹس تقریباً لبریز ہوگئے۔ کئی پراجکٹس کے دروازے کھولتے ہوئے پانی کا اخراج کیا جارہا ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرتے ہوئے اضلاع کلکٹرس کو چوکنا رہنے کی ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے ضلع سدی پیٹ میں بارش سے جن مکانات کو نقصانات ہوا ہے۔ ان کے متاثرین میں مالی امداد تقسیم کی۔ اور ریاست میں بڑے پیمانے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہونچا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں مزید دو دن بارش ہونے کی پیش قیاسی کی ہے۔ ریاست میں بارش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ ضلع رنگاریڈی کے ماراپلی منڈل میں واقع تماپور واگو میں بہہ جانے والی کار میں تین نعشیں برآمد ہوئیں۔ اس کار میں جملہ 6 لوگ سوات تھے۔ مہلوکین میں نئی نویلی دلہن بھی شامل ہے۔ ضلع یادادری بھونگیر کے راجم پیٹ منڈل کررارام کے پاس بہنے والی پانی میں اسکوٹی پر سوار تین لڑکیاں غرق ہوگئیں جس میں ایک لڑکی کو مقامی افراد نے بچالیا۔ ایک لڑکی کی نعش دستیاب ہوئی۔ دوسری لڑکی ہنوز لاپتہ ہے۔ ہلاک ہونے والی لڑکی کی سندھوجا کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔ جبکہ ہمابندو لاپتہ ہے۔ ضلع سدی پیٹ کے مناپلی برج پر سیلاب کے پانی میں ایک کار پھنس گئی۔ پولیس نے دو افراد کو بچالیا۔ ضلع کریم نگر کے ایل ایم ڈی پراجکٹ کے 8 گیٹس کھول کر پانی خارج کیا جارہا ہے۔ ضلع نظام آباد کے سری رام ساگر پراجکٹ کے 8 گیٹس کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے۔ ضلع نرمل کے کڈم پراجکٹ لبریز ہونے کے بعد 4 گیٹس کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد اور ضلع ورنگل میں مسلسل بارش کی وجہ سے کیتاپلی میں واقع موسیٰ پراجکٹ بھی لبریز ہوگیا۔ حکام کی جانب سے پراجکٹ کے پانچ گیٹس کھول کر پانی جاری کیا جارہا ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے تالاب اور ندیاں لبریز ہوکر بہہ رہے ہیں۔ ریاست کے مختلف مقامات پر بسیں اور خانگی گاڑیاں پانی میں پھنس گئی ہیں۔ مقامی عوام کی جانب سے کئی مقامات پر پانی میں پھنسے ہوئے عوام کو بچایا گیا ہے۔ ریاست کے مختلف مقامات کئی تالابوں اور ندیوں کے پشتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ عہدیداروں کی جانب سے عارضی مرمت کی گئی ہے اور عوام اور کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ چوکنا رہے۔ کوئی بھی پانی کے قریب جانے کی کوشش نہ کریں۔ مسلسل بارش کی وجہ سے کئی مقامات پر برقی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ N