تلنگانہ بھون ’’جنتا گیاریج‘‘ میں تبدیل : کے ٹی آر

   

سرینگر میں پھنسے ریاست کے 80 سیاحوں کو بحفاظت لانے کا حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد۔ 23 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راؤ نے بتایا کہ تلنگانہ بھون متاثرین کیلئے ’’جنتا گیاریج‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔ انہوں نے کشمیر میں پھنسے ہوئے تلنگانہ کے سیاحوں کو محفوظ طریقے سے واپس لانے کی ریاستی حکومت سے اپیل کی۔ کے ٹی آر آج ضلع ورنگل کے الکا کرتی میں 27 اپریل کو منعقد ہونے والے پارٹی کی سلور جوبلی جلسہ عام کی تیاریوں کا معائنہ کیا۔ بی آر ایس لیڈر نے کشمیر میں دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کیلئے 2 منٹ کی خاموشی مناتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیلئے جنم لینے والی پارٹی نے 10 سال تک نئی ریاست کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچایا۔ سماج کے تمام طبقات کیلئے فلاحی اسکیموں کو متعارف کرایا اور ان اسکیموں پر صدفیصد عمل آوری بھی کی۔ عوام کی جانب سے جو بھی ذمہ داری دی گئی، اسے بخوبی نبھایا جس کے سبب سابق چیف منسٹر کے سی آر آج بھی عوام کیلئے ہردلعزیز ہیں۔ مسائل کو لے کر عوام حکومت کے پاس نہیں جارہے ہیں بلکہ تلنگانہ بھون پہنچ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی آر ایس پر عوام کو کتنا بھروسہ ہے۔ بی آر ایس کے جلسہ عام میں پہنچنے والے عوام کو تمام سہولتیں پہونچائی جائیں گی اور انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ 30 تا 40 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایک ہزار ڈاکٹرس کی ٹیمیں موجود رہیں گی، 20 ایمبولینس کو تیار رکھا گیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کے 80 سیاح کل سے سرینگر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں محفوظ طریقے سے تلنگانہ کو واپس لانے کیلئے مرکزی و ریاستی حکومتیں ضروری انتظامات کریں۔ کے ٹی آر نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ کے سیاحوں کو تمام ضروری چیزیں فراہم کی جائیں۔2