تلنگانہ بی جے پی کو جھٹکہ، کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی مستعفی

   

عنقریب کانگریس میں شمولیت، منگوڑ سے مقابلہ کا منصوبہ، کانگریس اقتدار کا یقین

طحیدرآباد۔/25 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی کو اس وقت جھٹکہ لگا جب سابق رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے پارٹی سے استعفی دے دیا اور کانگریس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ راجگوپال ریڈی نے کانگریس پارٹی کی اسمبلی رکنیت سے استعفی دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی اور منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی نے راجگوپال ریڈی کو کانگریس میں شمولیت سے روکنے کیلئے اہم انتخابی ذمہ داری دی باوجود اس کے انہوں نے پارٹی سے استعفی کا اعلان کردیا۔ راجگوپال ریڈی نے پارٹی صدر جی کشن ریڈی کو مکتوب استعفی روانہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راجگوپال ریڈی نے کہا کہ ریاست میں شدید مخالف حکومت لہر ہے اور عوام تبدیلی چاہتے ہیں جس کا واضح اظہار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو کے سی آر خاندان کے اقتدار سے نجات دلانے کیلئے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ راجگوپال ریڈی نے کہا کہ آئندہ 6 ہفتوں میں کے سی آر خاندان سے تلنگانہ کو نجات دلانے کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کانگریس کو بی آر ایس کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور میں نے عوامی رائے اور رجحان کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیڑھ سال قبل تک تلنگانہ میں بی جے پی کو بی آر ایس کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا تھا لیکن بعد میں صورتحال تبدیل ہوگئی اور عوام کانگریس کو بی آر ایس کا متبادل تسلیم کرچکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں راجگوپال ریڈی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عہدوں کی خواہش کے بغیر ہی کام کیا ہے، علحدہ تلنگانہ تحریک میں سرگرمی سے حصہ لے چکا ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ راجگوپال ریڈی آئندہ دو دنوں میں نئی دہلی میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ 2018 اسمبلی انتخابات میں راجگوپال ریڈی نے منگوڑ اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تازہ ترین سیاسی صورتحال میں راجگوپال ریڈی کی گھر واپسی کو بھونگیر اور نلگنڈہ اضلاع میں کانگریس کیلئے بہتر امکانات تصور کیا جارہا ہے۔ استعفی کے مکتوب میں راجگوپال ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر کی زیر قیادت بدعنوان حکومت کا خاتمہ ان کا اہم مقصد ہے۔ کے سی آر اور ان کے خاندان نے عوام کو ہر سطح پر مایوس کیا ہے۔ راجگوپال ریڈی نے منگوڑ اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرنے کا اشارہ دیا اور کہا کہ وہ منگوڑ اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کیلئے پارٹی ہائی کمان سے خواہش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تلنگانہ اور جمہوریت کا احیاء صرف کانگریس سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور امیت شاہ نے ان سے تعاون کیا تھا لیکن تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے کانگریس میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگوڑ سے مقابلہ کے حق میں ہیں اور انہوں نے کبھی بھی ایل بی نگر سے مقابلہ کی بات نہیں کی، میری سانس جب تک باقی رہے گی میں منگوڑ کے عوام کے ساتھ رہوں گا، تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے۔