جہدکاروں سے متعلق مراعات پر فیصلہ سے جسٹس وجئے سین ریڈی کا انکار، حکومت کو موقف واضح کرنے کی ہدایت
حیدرآباد 10 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے اِس بات پر حیرت کا اظہار کیاکہ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے لئے ایجی ٹیشن میں حصہ لینے والے ایک عام شہری کو برطانوی سامراج اور نظام حیدرآباد کے خلاف جدوجہد کرنے والے مجاہدین آزادی کے برابر کس طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے افراد کو مراعات کے سلسلہ میں اپنا موقف واضح کرے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے کہاکہ آپ ہوسکتا ہے کہ علیحدہ تلنگانہ کے لئے کافی جدوجہد کی ہوگی لیکن حکومت کی پالیسی کے بغیر مجاہدین آزادی کی طرح مراعات کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے درخواست گذاروں سے جو عدالت میں موجود تھے، کہاکہ حکومت کی جانب سے پنشن اور اراضی کے الاٹمنٹ پر عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اُس وقت کیا ہوگا جب کئی لاکھ افراد تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے اِسی طرح کی مراعات کا مطالبہ کریں گے۔ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے تقریباً 9 جہدکار جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی اپیل کی۔ درخواست گذاروں نے عدالت سے اپیل کی کہ حکومت کو اِس بات کی ہدایت دی جائے کہ اُنھیں 250 مربع گز اراضی الاٹ کی جائے اور مکان کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپئے اور ہیلت انشورنس کے تحت 10 لاکھ روپئے تک کے مفت علاج کے احکامات جاری کرے۔ درخواست گذاروں نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی پارٹیوں نے 2023ء کی اسمبلی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدے کئے تھے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے کہاکہ اِن درخواستوں پر کسی بھی طرح کے احکامات کی اجرائی سے ’’پینڈورا باکس‘‘ کھل جائے گا اور لاکھوں افراد اِسی طرح کی مراعات کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔ اُنھوں نے واضح کیاکہ بائیں بازو انتہا پسندی سے متاثر، کوویڈ میں افراد خاندان سے محروم افراد اور آبپاشی پراجکٹوں کی تعمیر کے سبب بے گھر کئے گئے افراد کو معاوضہ اور مراعات حکومت کی پالیسیوں کے مطابق ادا کی جاتی ہیں جبکہ تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لینے والوں کے بارے میں مراعات سے متعلق حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ درخواست گذاروں کے وکیل کروناکر ریڈی نے جہدکار حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کرے گی۔ درخواست گذاروں نے ضلع کلکٹر حیدرآباد کو یادداشت پیش کی جسے پرنسپل سکریٹری ریونیو کو روانہ کیا گیا جن کے پاس فریڈم فائٹرس کا ڈپارٹمنٹ بھی ہے۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے 2 افراد کو چند ماہ قبل 250 مربع گز اراضی اور پنشن منظور کیا گیا لیکن اِس سلسلہ میں احکامات برسر عام نہیں کئے گئے۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے جی ناگرجنا اور 8 دوسروں کی درخواستوں کی سماعت کی۔ تاہم کوئی فیصلہ سنانے سے گریز کیا۔ اُنھوں نے تلنگانہ جہدکاروں کی مراعات کے بارے میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ کسی جی او کی پیشکشی کی خواہش کی، جس پر درخواست گذاروں کے وکیل نے بتایا کہ ایک جی او جاری کیا گیا تھا جسے سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا۔ حکومت کے واضح احکامات کے بغیر جسٹس وجئے سین ریڈی نے کوئی ہدایت دینے سے گریز کیا اور کہاکہ عدالت اِس موقف میں نہیں ہے۔ عدالت نے گورنمنٹ پلیڈر ریونیو کو ہدایت دی کہ وہ اِس سلسلہ میں حکومت سے احکامات حاصل کرے۔ اِس معاملہ کی آئندہ سماعت 23 فروری کو مقرر کی گئی۔1