تلنگانہ تحریک کی دختر رحیم النساء بیگم نظرانداز

   

تحریک کے دوران 5 مرتبہ جیل گئی، 153 مقدمات درج ہوئے

حیدرآباد ۔5 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ تحریک کی دختر رحیم النساء بیگم کو بی آر ایس میں یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔ عہدے تو دور انہیں عزت و احترام کی بھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا ہے۔ وزراء اور بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ان سے ملاقات کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ مخالف تلنگانہ طاقتوں کو وزارت، قانون ساز اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ تلنگانہ ریاست اپنی تشکیل کے 9 برس مکمل کرکے دسویں برس میں داخل ہوگئی ہے جس پر حکومت کی جانب سے ریاست میں 21 دن کا جشن منایا جارہا ہے۔ مجاہدین کو تہنیت پیش کی جارہی ہے مگر چیف منسٹر تلنگانہ بی آر ایس حکومت اور پارٹی نے ورنگل کی رحیم النساء بیگم کو یکسر نظرانداز کردیا ہے جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنی علحدہ چھاپ چھوڑی ہے۔ تحریک کے دوران ان کے خلاف 153 مقدمات درج ہوئے اور 5 مرتبہ جیل کو بھی گئی ہیں۔ تلنگانہ جشن کے موقع پر رحیم النساء بیگم جذبات سے مغلوب ہوگئی۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک کے دوران وہ کے سی آر کو والد کا درجہ دیتی تھی۔ تحریک کے دوران کئی مرتبہ چیف منسٹر کے سی آر سے بات چیت ہوتی تھی۔ کے سی آر نے بھی انہیں اپنی بیٹی جیسی قرار دیا تھا۔ تاہم علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر کافی تبدیل ہوگئے ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے مجاہدین کو فراموش کردیا گیا ہے۔ مخالف تلنگانہ کے غداروں کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران اس وقت کی حکومت نے رحیم النساء بیگم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے پولیس کا علحدہ دستہ تشکیل دیا تھا۔ رحیم النساء بیگم نے وزراء کے گھروں پر چڑھ کر دھرنا دیا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیل ٹاور چڑھ گئی تھی۔ اپنے شیرخوار بچے کو چھوڑ کر جیل گئی تھی۔ انہوں نے جشن کے تناظر میں بتایا کہ وہ جن کی وجہ سے جیل گئی تھی وہ آج وزراء، ارکان اسمبلی اور دیگر عہدوں پر فائز ہیں۔ عوامی مسائل سے جب وہ ان سے ملنے جارہی ہیں تو کوئی ان سے ملاقات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے کئی لوگوں نے زندگیاں قربان کردی۔ کئی لوگ زخمی ہوئے، جیل گئے، کئی مقدمات میں پھنسا دیا گیا۔ ایسے لوگوں کو عہدے نہیں دیئے گئے پھر بھی خاموش رہے مگر انہیں عزت و احترام بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ن