٭ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاست کی جی ایس ڈی پی میں اضافہ
٭ برقی پیداوار کی صلاحیت بھی بڑھ گئی ۔ بلا وقفہ معیاری برقی سربراہی
٭ مشن بھاگیرتا کے ذریعہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا دعوی
٭ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر سوندرا راجن کا خطاب
حیدرآباد۔ تلنگانہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور نیتی آیوگ نے تلنگانہ کی ترقی کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ سراہنا کی ہے۔ حکومت ہر شعبہ میں ترقی کے ساتھ تمام طبقات کی مجموعی ترقی اور فلاح و بہبود کے علاوہ حکومت کی اسکیمات کو عوام کے گھر تک پہنچانے اقدامات کر رہی ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اب تک اگر ریاست کی جی ایس ڈی پی کا جائزہ لیا جائے تو تلنگانہ کی جی ایس ڈی پی میں 114.71 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے تلنگانہ بجٹ سیشن کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ حکومت عوام کو برقی ‘ پانی ‘ زرعی سہولتوں کے علاوہ مجموعی ترقی میں ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت 2014میں تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آئی تھی اس وقت ریاست کا جی ایس ڈی پی 4لاکھ 51ہزار580 کروڑ تھا لیکن اب 2019-20میں جی ایس ڈی پی 9لاکھ 69ہزار604 کروڑ تک پہنچ چکا ہے اور مجموعی اعتبار سے 114.71 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ گورنر نے کہاکہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت تلنگانہ ترقی کی نئی منزلیں طئے کر رہا ہے اور چندر شیکھر راؤ ریاست کو خود مکتفی بنانے کی کامیاب کوشش کر رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں پینے کے پانی کے مسائل کو دور کرنے حکومت نے مشن بھگیریتا کے ذریعہ پانی کی سربراہی کے اقدامات کئے اور اسی منصوبہ کے تحت ریاست بھر میں اوور ہیڈ ٹینکس کی تعمیرعمل میں لائی گئی جس کے نتیجہ میں شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں کو بھی بہتر صاف پینے کا پانی مل رہا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ گھر گھر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبہ پر عمل کے سبب ریاست میںفلورائیڈ کا مسئلہ ختم ہوچکا ہے ۔ گورنر نے پنچایت راج کو دیئے گئے اختیارات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے نہ صرف دیہی پنچایت اداروں کو بااختیار بنانے کے اقدامات کئے ہیں بلکہ جنگلاتی علاقوں میں بھی پنچایتوں کے قیام کے ذریعہ ان کی ترقی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہریتا ہارم سے ریاست بھر میں شہری جنگلاتی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے اور مرکزی حکومت سے اس بات کی توثیق کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کالیشورم پراجکٹ کے ذریعہ ریاست بھر میں زرعی سرگرمیوں میں بہتری کا تذکرہ کیا اور کہا کہ حکومت کے اقدامات سے تلنگانہ میں کاشتکاری اور زرعی مزدوری قابل فخر پیشہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ گورنر نے کہا کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی ‘ فلاح و بہبود کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور وظیفہ پیرانہ سالی کی رقم میں اضافہ کیا گیا ۔ انہوں نے آسرا پینشن ‘ وظیفہ برائے معذورین میں اضافہ کا تذکرہ کیا۔کے سی آر کٹس کی اسکیم اور حکومت کی جانب سے حاملہ خواتین کو زچگی کیلئے راغب کروانے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کے سی آر کٹس کی فراہمی سے سرکاری دواخانوں میں زچگی کے فیصد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے راشن کارڈ پر گھر کے تمام افراد کیلئے فی کس 6کیلو چاول سربراہ کر ر ہی ہے جبکہ سابق میں ایسا نہیں کیا جاتا تھا۔ انہو ںنے زرعی سرگرمیوں کے فروغ اور کسانوں کیلئے بیمہ کے علاوہ تخم کیلئے امداد کی اور رعیتو بندھو اسکیم کے سبب کسانوں میں خوشحالی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ یہ اسکیمات دوسری ریاستوں کیلئے مثال اور قابل تقلید ہیں۔انہوں نے سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتر بنانے اقدامات کی ستائش کی اور کہا کہ وینٹیلیٹر بستروں‘ آکسیجن بستروں کے علاوہ ڈائیلاسیس کی سہولتوں کو بہتر بنانے اور بستی دواخانوں کے قیام کے ذریعہ ہر کسی کو طبی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ گورنر نے چرواہوں‘ مچھیروں کیلئے اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے فوائد اب سامنے آنے لگے ہیں۔ڈاکٹر سوندرا راجن نے بتایا کہ تلنگانہ نے برقی پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور جس وقت تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آئی تھی اس وقت برقی پیداوار کی صلاحیت 7778 میگا واٹ تھی لیکن آج یہ صلاحیت 16ہزار 245میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے اور برقی کھپت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ بلاوقفہ معیاری برقی سربراہی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ گورنر نے بتایا کہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی ترقی کیلئے خصوصی فنڈس کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے اور آئندہ بھی ان کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ تعلیمی میدان میں بھی کئی مثبت تبدیلیاں لائی گئی ہیں جس سے آج ریاست میں سرکاری اقامتی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 4لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور کارپوریٹ سہولتوں کی فراہمی اور کارپوریٹ معیار کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ دھرانی پورٹل سے متلعق کہا کہ بد عنوانیوں کے خاتمہ کے علاوہ اراضیات کو باقاعدہ بنانے اور سرکاری ‘ اوقافی ‘ جنگلاتی اراضیات کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے گئے قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے امن و اما ن کی برقراری ‘ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے علاوہ پولیس عہدیداروں کوعصری آلات سے لیس گاڑیوں کی فراہمی کے علاوہ عالمی معیار کے کمانڈ کنٹرول روم کے قیام کا تذکرہ کیا او رکہا کہ سائبر دھوکہ دہی سے شہریوں کو محفوظ رکھنے منفرد خدمات انجام دی جا رہی ہیں ۔انکے علاوہ گورنر نے دیگر اسکیمات کی ستائش کی ۔خطبہ کے فوری بعدقومی ترانہ کے ساتھ گورنر ایوان سے روانہ ہو گئیں ۔