تلنگانہ جہدکاروں کا اسمبلی گھیراؤ پروگرام کو پولیس نے ناکام بنادیا

   

حیدرآباد۔28مارچ(سیاست نیوز) علیحدہ تلنگانہ جدوجہد میںشامل جہدکاروں کی جانب سے 28اپریل کو اسمبلی گھیرائو کا اعلان کیاگیا تھا جس کو سٹی پولیس نے ناکام بنادیا۔سینکڑوں جہدکاروں کو نامپلی‘ آصف نگر‘ افضل گنج‘ بیگم بازار ‘ سعید آباد‘ ایل بی نگر‘ سائبر آباد کے علاوہ مختلف پولیس اسٹیشنوں میںشام 5بجے تک تمام جہدکاروں کو گرفتار ی کے بعد محروس رکھا گیا۔ کنونیر تلنگانہ اودیا ما کاریلو جے اے سی رام گیری پرکاشم کی قیادت میںسینکڑوں جہدکاروںنے اس احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیاہے۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات سے قبل اقتدار میںآنے پر تلنگانہ جہدکاروں کو 250گز اراضی فراہم کرنے‘ فی کیس 25ہزار روپئے وظیفہ مقرر کرنے ‘ اور ان کی جدوجہد کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کاوعدہ کیاتھا مگر ڈھائی سال کا وقفہ گذر جانے کے باوجود وعدوں پر عدم عمل آوری کے پیش نظر جے اے سی نے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیاتھا۔ رام گیری پرکاشم نے میڈیا کو بتایاکہ پچھلے بارہ سالوں سے علیحدہ تلنگانہ تحریک کے جہدکار انصاف کی حکومتوں سے گوہا ر لگارہے ہیں۔ پچھلے انتخابات میںانصاف کی امید کے ساتھ کانگریس پارٹی کا ساتھ دیامگر ڈھائی سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ریونت ریڈی حکومت جہدکاروں کے ساتھ انصاف نہیںکررہی ہے ۔ پرکاشم نے مزیدکہاکہ سرکاری طور پر ہماری جدوجہد او رقربانیوں کو تسلیم کرنا ہی ہمارے لئے بڑا اعزاز ہے ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ کانگریس پارٹی نے خود ہی وعدہ کیاتھا کہ وہ جہدکاروں کو مراعات پیش کریں گے ۔مگر افسوس کے ڈھائی سال کے قریب کا عرصہ گذر گیا ہے اس کے بعد بھی حکومت تلنگانہ نے ہماری طرف توجہہ نہیں کی ہے۔