پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی، چیف منسٹر آفس سے گرام پنچایتوں تک واٹس ایپ کا استعمال
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے سرکاری امور کی انجام دہی کے سلسلہ میں واٹس ایپ کے استعمال کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کی اطلاعات کے بعد حکومت نے سرکاری طور پر واٹس ایپ کے بجائے سگنل اور ٹیلیگرام ایپس استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اسی دوران واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ تلنگانہ حکومت واٹس ایپ کے استعمال میں دیگر حکومتوں سے آگے ہیں۔ چیف منسٹر کی آفس سے ولیج پنچایتوں تک سرکاری احکامات اور دستاویزات کی منتقلی کے لئے واٹس ایپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کی اطلاعات کے بعد تلنگانہ حکومت نے سگنل اور ٹیلیگرام ایپس کو منتقلی کی تیاری کرلی تھی۔اطلاعات کے مطابق دونوں ایپس میں گروپس تشکیل دیئے گئے تاکہ تجرباتی طور پر سرکاری دستاویزات منتقل کئے جاسکیں۔ ان تیاریوں کے دوران واٹس ایپ نے نئی پالیسی کو مئی تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ریاستی وزراء ، ارکان اسمبلی ، محکمہ جات کے سکریٹریز اور ضلعی عہدیداروں نے واٹس کے استعمال کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے سرکاری امور کی تکمیل کیلئے واٹس ایپ کے استعمال کے بارے میں باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے لیکن بہتر خدمات اور مقبولیت کے سبب واٹس ایپ کے استعمال کا آغاز کیا گیا تھا۔ مختلف محکمہ جات جیسے پولیس ، انڈسٹری ، انفارمیشن ٹکنالوجی ، ایجوکیشن اور ہیلت کے عہدیدار سرکاری اغراض کے لئے اس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ واٹس ایپ میں 250 ممبرس کے ساتھ گروپ کی تشکیل کیلئے کوئی چارجس نہیں ہے ۔ 250 ممبرس سے زائد کے گروپ کو ماہانہ سرویس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ 250 سے زائد ممبرس کے 50 سے زائد سرکاری واٹس ایپ گروپ سرگرم ہیں۔ اب جبکہ واٹس ایپ سے دستاویزات اور دیگر معلومات کے افشاء کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لہذا سرکاری طور پر کسی ایپ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واٹس ایپ کے سرکاری گروپ کے ایڈمن کی حیثیت سے ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری یا پھر ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ہیں۔ وزراء کے پبلک ریلیشن آفیسرس نے خبروں اور دیگر سرگرمیوں کی اطلاعات میڈیا تک پہنچانے کیلئے واٹس ایپ گروپ بنائے ہیں۔ ضلع کلکٹرس اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اضلاع میں اس طرح کے گروپ بناچکے ہیں۔