تلنگانہ حکومت میں مسلمانوں کے سنہرے دور کا آغاز

   

سکریٹریٹ میں اسی مقامات پر مساجد کی تعمیر تاریخی فیصلہ ، صدر نشین حج کمیٹی مسیح اللہ خاں
حیدرآباد :۔ حج کمیٹی کے صدر نشین مسیح اللہ خاں نے سکریٹریٹ میں اسی مقام پر دو مساجد کی تعمیر کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر سیکولر شخصیت ہے ۔ مسلمانوں کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہے ۔ جدید سکریٹریٹ کی تعمیر کے دوران دو مساجد جن مقامات پر موجود تھی انہیں مقامات پر سرکاری مصارف سے مساجد تعمیر کرنے کا نہ صرف فیصلہ کیا گیا بلکہ اس کے درمیان جو خالی اراضی ہے وہ بھی مساجد کے امام کے لیے کوارٹرس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس تاریخی فیصلے سے مسلمان پوری طرح مطمئن ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف شخصیتوں نے سیاسی فائدے کے لیے مسلمانوں میں جو شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس کو چیف منسٹر نے علماء مشائخین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ان تمام شکوک کو دور کردیا ہے ۔ اس معاملے میں ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے بھی اہم رول ادا کیا ہے ۔ مسلمانوں کے جذبات سے چیف منسٹر کو واقف کرایا ہے ۔ یہی نہیں وقف جائیدادوں کی فروخت پر پابندی لگادی گئی ہے ۔ اب مستقبل میں کوئی رجسٹریشن نہیں ہوگی ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کا سنہری دور شروع ہوا ہے ۔ اقلیتی بجٹ 2 ہزار کروڑ سے تجاوز کرچکا ہے ۔ ٹمریز میں اقلیتی طلبہ کو مفت کارپوریٹ طرز کی تعلیم حاصل ہورہی ہے ۔ شادی مبارک اسکیم پر کامیابی سے عمل آوری ہورہی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کی ترقی سارے ملک کے دوسرے شہروں کیلئے مثالی بنی ہوئی ہے ۔ ایرپورٹس کے طرز پر شہر کے سڑکوں پر اے سی ٹائیلٹس بنائے گئے ۔ ایل ای ڈی سے شہر روشنیاں بکھر رہا ہے تو فلائی اوورس اور سڑکیں ٹریفک مسائل کو بڑی حد تک دور کرچکے ہیں ۔ شہر کی ترقی میں ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی خدمات ناقابل فراموش ہے ۔ عوام پوری طرح ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔۔