٭ دلت بندھو اسکیم کیلئے 17 ہزار 700 کروڑ روپئے مختص
٭ اقلیتوں کیلئے محض 1728 کروڑ کا بجٹ ۔ تقریر میں تذکرہ نہیں
٭ ڈبل بیڈروم فلیٹس اسکیم کیلئے 12 کروڑ روپئے کی فراہمی
٭ آسرا وظائف کیلئے 11 ہزار 728 کروڑ مختص ۔ ہریش راؤ کی تقریر
حیدرآباد۔7۔مارچ۔(سیاست نیوز) وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ نے 2022-23 بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اجلاس کے پہلے دن وزیر فینانس نے سال 2022-23کیلئے 2لاکھ 56ہزار 958کروڑ 51 لاکھ کے مصارف کی تجویز پیش کی ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے علاوہ دیگر وزراء کی موجودگی میں وزیر فینانس نے بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے سال 2022-23 کے دوران اخراجات کے منصوبہ کو ایوان میں پیش کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ ریاست کو آمدنی کہاں سے ہو رہی ہے یا خرچ کہاں کیا جارہا ہے بلکہ حکومت کی توجہ مجموعی عوامی زندگی میں تبدیلی پر ہے اور اخراجات کے بعد عوامی زندگی میں تبدیلی ریکارڈ کی جا رہی ہے تو یہ حکومت کی کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی قیاد ت میں حکومت تلنگانہ مجموعی اعتبار سے بہتر خدمت انجام دے رہی ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ہی تلنگانہ مرکزی حکومت کے سوتیلے سلوک کا شکار ہے۔ بجٹ میں حکومت نے معاشی پسماندہ طبقات کیلئے 10 فیصد تحفظات کی فراہمی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ حکومت تلنگانہ نے EWS کے تحت سرکاری ملازمتوں میں اور تعلیم میں معاشی پسماندہ طبقات کو 10فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانا شروع کردیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ کی آمدنی میں اضافہ و معاشی بہتری کی بنیادی وجہ بدعنوانیوں سے پاک حکمرانی کیلئے ٹی ایس بائی پاس‘ ٹی ایس آئی پاس کے علاوہ دھرانی پورٹل ‘ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں بہتری لائی گئی اور اس میں حائل چیالنجس کو دور کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اب ملک بھر میں مشعل راہ ہے ۔ وزیر فینانس نے تلنگانہ کے جی ڈی پی اور ہندستان کے جی ڈی پی کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ قومی جی ڈی پی سے بہتر مظاہرہ کر رہی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ 2016 سے مسلسل جی ایس ڈی پی میں قومی جی ڈی پی سے آگے ہے اور بہتری ریکارڈ کی جار ہی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ تلنگانہ اپنے قیام کے باوجود امتیازی سلوک کا شکار ہے۔ انہوں نے نیتی آیوگ سے مشن بھاگیرتا اور مشن کاکتیہ کیلئے 24ہزار205کروڑ روپئے جاری کرنے کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیتی آیوگ کی سفارش کے باوجود 24پیسے تک جاری نہیں کئے گئے ۔انہوں نے محکمہ صحت ‘ تعلیم ‘ صنعتی ترقی ‘ بہبود کے علاوہ دیگر امور پر خصوصی توجہ کا دعویٰ کیا اور کہا کہ بجٹ 2022-23میں حکومت نے دلت بندھو اسکیم کیلئے 17ہزار700کروڑ کی تخصیص کا فیصلہ کیا جبکہ رعیتو بندھو اسکیم کیلئے 14ہزار 800 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ آسراوظائف کیلئے 11ہزار728کروڑ کلیا ن لکشمی ‘ شادی مبارک اسکیم کیلئے 2750کروڑ کی تخصیص کے فیصلہ سے واقف کروایا ۔ علاوہ ازیں ریاست میں ڈبلء بیڈ روم فلیٹس کی اسکیم میں 12ہزارکروڑ روپئے کی تخصیص کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کو 24 ہزار 254 کروڑ35 لاکھ روپئے مختص کئے گئے جبکہ محکمہ برقی کیلئے 12ہزار209 کروڑ 86لاکھ کا بجٹ ہے ۔ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کیلئے 11ہزار237کروڑ 33لاکھ محکمہ اعلیٰ تعلیم کیلئے 2357کروڑ 72 لاکھ مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ محکمہ میں داخلہ کیلئے 9315کروڑ48لاکھ مختص کئے ہیں جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے 1728کروڑ 71لاکھ کی تخصیص کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بلدی نظم ونسق کیلئے حکومت 10ہزار903 کروڑ 66 لاکھ کا بجٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ہریش راؤ نے مختلف فلاحی اسکیمات کے اثرات اور شہریو ںمیں تبدیلی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی ترقی کے اقدامات کارآمد ثابت ہونے لگے ہیں۔انہو ںنے مرکز کے سلوک پر بجٹ تقریر میںشدید تنقید کی اور کہا کہ مرکز نے جاریہ سال بجٹ میںبھی تلنگانہ سے انصاف نہیں کیا اور نہ کسی پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دیا گیا ۔انہوںنے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کے باوجود تلنگانہ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کے طور پر ابھر رہی ہے ۔ تلنگانہ واحد ریاست ہے جس نے کسانوں کو اب تک 50 ہزار کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ بد عنوانیوں سے پاک حکمرانی کے سبب ایسا ممکن ہوا ۔انہو ںنے بتایا کہ تشکیل تلنگانہ کے وقت تلنگانہ کی جی ایس ڈی پی 4لاکھ 51ہزار 580 کروڑ تھی جبکہ سال گذشتہ یعنی مالی سال تلنگانہ کی جی ایس ڈی پی 11لاکھ54ہزار860 کروڑ ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ 2020-21کے دوران شرح ترقی میں 1.4 فیصد کی منفی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی جس کی وجہ کورونا حالات رہے۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ تلنگانہ کے شہریوں کی فی کس آمدنی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2014-15 کے دوران تلنگانہ میں فی کس آمدنی 1لاکھ 24 ہزار 104 روپئے رہی جو کہ قومی سطح پر فی کس آمدنی سے 1.43گنا زیادہ تھی اورسال 2021-22کے دوران اس میں اضافہ ہوا ۔ تلنگانہ کی فی کس آمدنی 1لاکھ 49 ہزار 848 ریکارڈ کی گئی جو کہ قومی فی کس آمدنی سے 1.86 گنا اضافہ ہے۔انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ جنوبی ریاستوں میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی والی ریاست ہے۔م