فنڈس کے غلط استعمال کا پروپگنڈہ، سنگاریڈی میں احتجاج، مختلف قائدین کا خطاب
سنگاریڈی۔ 23 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے قومی ضامن روزگار اسکیم کے فنڈس کا غلط استعمال کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوے 159 کروڑ روپیہ واپس کرنے کا نوٹس دیا جس کے خلاف بی آر ایس پارٹی ضلع سنگاریڈی نے آر ڈی آفس ضلع پریشد بلڈنگ سنگاریڈی کے روبرو احتجاجی دھرنا منظم کیا جس میں چنتا پربھاکر چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ ہینڈلوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن و صدر ٹی آر ایس پارٹی ضلع سنگاریڈی’ کرانتی کمار رکن اسمبلی اندول’ مانک راو رکن اسمبلی ظہیرآباد’ مہی پال ریڈی رکن اسمبلی پٹن چیرو’ بھوپال ریڈی رکن اسمبلی نارائن کھیڑ’ منجو شری جئے ہال ریڈی چیرمین ضلع پریشد’ شیوا کمار چیرمین ڈی سی ایم ایس’ ایرولا سرینیواس’ نرہر ریڈی چیرمیں ڈسٹرکٹ لائبریریز’ مانیکیم وائس چیرمین ڈی سی سی بی’ بی وجئے لکشمی چیرمین بلدیہ سنگاریڈی’ بیریا یادو’ پولی مامڈی راجو’ آتماکور ناگیش’ شیخ صابر’ خواجہ خان’ وجئندر ریڈی’ کے علاوہ اراکین ضلع پریشد’ صدور منڈل پریشد’ ایم پی ٹی سی’ سرپنچ’ اراکین بلدیہ’ بی آر ایس پارٹی کے قائدین و کارکنان اور کسان قائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر بی آر ایس قائدین نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے گزشتہ 8 سال کے دوران ملک کے کسانوں کے مسائل کی یکسوء اور فلاح و بہبود کے کوء کام نھیں کیا۔ انھیں کوء راحت نھیں پہنچاء اور نا ہی زراعی پیداور کی قیمت خریدی میں اضافہ کیا۔ جب سے سربراہ بی آر ایس کے چندر شیکھر راو قومی سیاست میں سرگرم ہوے اور اب کی بار کسان سرکار کا نعرہ دیا ہے بی جے پی مرکزی حکومت بوکلاہٹ کا شکار ہوگئی اور تلنگانہ حکومت پر جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے قومی ضامن روزگار اسکیم کے تحت تلنگانہ کے کسانوں کی سہولت کے لیے اور ان کی زراعی پیداور کو سکھانے سیمنٹ کے پلیٹ فارم تعمیر کئے ہے جس پر مودی سرکار چراغ پا ہوگئی اور کسانوں کی سہولت کے لیے تعمیر کردہ پلیٹ فارمس کو قومی روزگار اسکیم کے مغائر قرار دیتے ہوے نوٹس جاری کی اور فنڈس کے غلط استعمال کا بیجا پروپگنڈا کر رہی ہے۔ مودی سرکار کسانوں کے لیے خود کچھ بھی نھیں کر رہی ہے اور نا تلنگانہ سرکار کو کرنے دے رہی اس بات کو نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کے کسانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔