تلنگانہ حکومت پر شہریوں کی نجی تفصیلات حاصل کرنے کا الزام

   

Ferty9 Clinic

کانگریس ترجمان شراون کی مملکتی وزیرداخلہ کشن ریڈی سے نمائندگی، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

حیدرآباد۔5 ۔ اگست (سیاست نیوز) مرکزی وزیر مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کانگریس قائدین کے وفد کو تیقن دیا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ حکومت کی جانب سے شہریوں کی شخصی تفصیلات کو حاصل کرنے سے متعلق شکایات کا جائزہ لے گی۔ سمگرا وائیدیکا کے تحت تلنگانہ حکومت عوام کی تمام شخصی معلومات بشمول آن لائین ادائیگیوں کو جمع کر رہی ہے جس کے خلاف کئی تنظیموں نے مرکز سے شکایت کی تھی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون کی قیادت میں اس وفد نے نئی دہلی میں آج مرکزی وزیر مملکتی داخلہ سے ملاقات کی اور یادداشت پیش کی۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت پر دستور کی دفعہ 21 ، شخصی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون 2017 ء ، انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ 2008 ء اور سپر یم کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت سیاسی مقصد براری کے لئے یہ تفصیلات استعمال کر رہی ہے۔ حیدرآباد میں 5 جولائی 2019 ء کو آئی سی اے آئی نیشنل کانفرنس سے پرنسپل سکریٹری انفارمیشن ٹکنالوجی جیش رنجن کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس قائدین نے کہا کہ سٹیزن 360 مہم کے تحت یہ تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں ۔ عہدیدار نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ مختلف محکمہ جات میں موجود عوام سے متعلق تمام تفصیلات کو اکٹھا کیا جارہا ہے ۔ جیش رنجن کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ تلنگانہ حکومت غیر قانونی طور پر نجی معلومات اکٹھا کر رہی ہے۔ عوام کی اجازت کے بغیر اس طرح کی تفصیلات حاصل نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ انتہائی حساس اور رازدارانہ معاملہ ہے ۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ تلنگانہ حکومت مختلف محکمہ جات سے شہریوں کی ڈیجیٹل معاملت کے علاوہ خانگی اداروں ، بینکوں اور مالیاتی اداروں سے معاملت کی تفصیلات کے علاوہ شخصی ای میل اور پاس ورڈ حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت عوام کے شخصی تفصیلات کو سیاسی اغراض کے لئے استعمال کرسکتی ہے جبکہ اس طرح کی معلومات حاصل کرنا عوام کی مرضی کے بغیر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنی روز مرہ کی معاملتوں کو سرکاری اور خانگی اداروں کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس بات سے لاعلم ہے کہ تلنگانہ حکومت تمام ڈیٹا پر مشتمل ڈیجیٹل فوٹ پرنٹس تیار کر رہی ہے۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام غیر قانونی یکطرفہ اور سپریم کورٹ کے شرائط کے برخلاف ہے۔ حکومت کا یہ اقدام عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق دستور کی دفعہ 14 اور 21 کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت ہر شہری کا ایک متوازی آدھار تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹی آر ایس حکومت بارہا عوام کی نجی تفصیلات کی جاسوسی کے مرتکب ہوئی ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ان تفصیلات کو مجوزہ بلدی انتخابات میں سیاسی فائدہ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جاریہ سال مارچ میں آئی ٹی گریڈ انڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ اور تلگو دیشم پارٹی کے خلاف محض اس لئے مقدمہ درج کیا کیونکہ ان پر عوام کی نجی تفصیلات کو سیاسی اغراض کے لئے استعمال کرنے کا الزام تھا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت نجی اور رازدارانہ تفصیلات کا بیجا استعمال نہیں کرے گی۔ انہوں نے مملکتی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کریں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔