مخالف مودی ہونے کے سی آر کا ڈرامہ، 5 عہدیداروں کو 40 محکمہ جات کی ذمہ داری
حیدرآباد۔/6 مارچ، (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کا یہ آخری بجٹ ہے اور جنوری میں اسمبلی تحلیل کردی جائے گی۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ شکست کے خوف سے کے سی آر دوسری مرتبہ وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس مرتبہ ان کی شکست یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطبہ کے بغیر بجٹ اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کے سی آر خود کو مخالف نریندر مودی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ وہ بی جے پی کے ساتھ کئی برسوں سے ملی بھگت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی روایات سے انحراف کرتے ہوئے گورنر کے خطبہ کو نظرانداز کردیا گیا کیونکہ کے سی آر کا اس بات کا خوف لاحق ہے کہ گورنر کے خطبہ کے ذریعہ کانگریس کو حکومت کی ناکامیاں پیش کرنے کا موقع مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اکسائیز سرینواس گوڑ کے قتل کی سازش معاملہ میں سپاری دینے والے خود ٹی آر ایس قائدین ہیں۔ انہوں نے اس سازش کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی اراضیات پر ناجائز قبضوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں میں تلنگانہ کے عہدیداروں کو نظرانداز کردیا گیا صرف بہار سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو اہم پوسٹنگ دی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے انکشاف کیا کہ بہار سے تعلق رکھنے والے 5 عہدیداروں کو 40 محکمہ جات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ سومیش کمار اور انجنی کمار کو آندھرا پردیش کیڈر سے حاصل کرتے ہوئے اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کانگریس پارٹی اس مسئلہ کو پیش کرے گی۔ اسمبلی اجلاس کم از کم 30 دن ہونا چاہیئے لیکن ٹی آر ایس نے اس روایت کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کم از کم 21 دن تک اسمبلی اجلاس کیلئے مطالبہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 12 ماہ بعد تلنگانہ میں سونیا گاندھی راجیم رہے گا۔ر